رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 165 of 169

رسالہ درود شریف — Page 165

رساله و رود شریف ۳۱۱ رساله و رود صدقہ پیش کرتا تو حضور بموجب آیت خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ | ہو۔جو تمہارے مناسب حال نہیں ہے اور اس لئے کہ تم ایک معصوم اور قابل رحم بچی چھوڑ گئی ہو۔جسے اپنے درد کا اظہار کرنا بھی نہیں آتا۔در حقیقت لفظ صلوۃ کا تعلق مستقبل کی بہتری سے ہے جیسا کہ حماسہ کے تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَك سكن لَّهُمْ (توبہ: (۱۰۳) - اس شخص کے لئے صلوٰۃ کے لفظ سے دعا کرتے وقت اس میں اس کی آل کو بھی داخل کر لیتے تھے۔چنانچہ جب حضرت ابوادنی رضی اللہ عنہ نے حضور کی خدمت میں صدقہ پیش کیا (یا بھیجا) تو حضور نے اس کے لئے یہ دعا فرمائی۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى أَي أَبِي أو فى جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صلوۃ کے ساتھ آل کا خصوصیت سے تعلق ہے اور اس حقیقت کا پتہ عربی زبان کے بعض محاورات سے بھی لگتا ہے چنانچہ ایک شاعر (مویلک) اپنی بیوی کی وفات پر جس کی ایک ننھی سی لڑکی ایک اور شعر سے بھی ظاہر ہوتا ہے جو یہ ہے:۔صَلَّى الإِلهُ عَلَى صَفِي مُدْرِكَ يَوْمَ الْحِسَابِ وَمَجْمَعِ الْأَشْهَادُ یعنی اللہ میرے چیدہ دوست مدرک پر قیامت کے روز خاص رحمت کرے جب گواہ جمع ہونگے۔سنت نبویہ کی رو سے مسیح موعود پر تصریح کے ساتھ درود بھیجنا رہ گئی تھی۔اس کے مرضیہ میں اس کے لئے لفظ صلوۃ کے ساتھ دعا کرتا ہوا اس دعا کے اختیار کرنے کی ایک وجہ یہ بتاتا ہے کہ اس کی یادگار بچی (یا بلفظ دیگر اسکی آل) کی حالت بہت ہی قابل رحم ہے اور اس بناء پر وہ دعا کرتا ہے کہ یا الہی اس عورت پر اس رنگ میں رحمت فرما کہ اس کی یاد گار سلامت رہے۔چنانچہ دیوان حماسہ میں اس کے متعلق اس کی جو نظم درج ہے اس میں وہ کہتا ہے:۔صَلَّى عَلَيْكَ اللهُ مِنْ تَفَفُودَةٍ إذ لا يُلائِمُ الْمَكَانُ الْبَلْقَعُ فَلَقَدْ تَرَكَتِ صَغِيرَةٌ مَّرْحُومَةٌ لَمْ تَدْرِ مَا جَزَعُ عَلَيْهِ فَتَجْزَعُ یعنی اے میری پیاری بیوی جسے میں کھو بیٹھا ہوں تم پر اللہ تعالیٰ کی وہ خاص رحمت ہو جس کا نام صلوٰۃ ہے کیونکہ تم ایک ویران جگہ میں مدفون بھی ضروری ہے پس جب آنحضرت می پر درود بھیجا جائے گا تو بالضرور اس میں آپ کی تمام آل پر یعنی ہر ایک مومن پر اور خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام پر بھی درود ہو گا۔لیکن آنحضرت میر کا مذکورہ بالا طریق عمل تعلیم بتاتی ہے کہ اس اجمالی درود پر ہی کفایت نہیں کرنی چاہئے۔بلکہ تفصیلی طور پر بھی تمام آل نبوی پر عموماً اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر خصوصاً درود بھیجنا چاہئے۔اور ہر بار درود میں آل نبوی پر تصریح سے درود بھیجنا ضروری نہیں ہاں یہ ضروری نہیں کہ جب بھی آنحضرت میں پر درود بھیجا جائے تو اس میں آپکی تمام آل پر اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی