رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 155 of 169

رسالہ درود شریف — Page 155

رساله درود شریف ۲۹۰ بعض دیگر ہدایات درباره درود شریف جو اس رسالہ کے یہاں تک تیار ہو جانے کے بعد حال میں ملی ہیں ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) درود شریف روحانیت اور تقویٰ کے حصول کا ذریعہ ہے مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی نے میرے پاس بیان کیا کہ میں نے پہلی طالب علمی کے زمانہ میں ادائل ۱۸۹۲ء میں جب مولوی عبدا صاحب کلانوری پروفیسر اور مینٹل کالج لاہور حضور کے ساتھ لاہور میں مناظرہ کر رہے تھے۔بیعت کی تھی۔لیکن اپنے والد صاحب کے خوف سے اخفاء کی اجازت لے لی تھی۔پھر جب میں ۱۸۹۵ء میں ملازم ہو گیا۔تو اعلان کر دیا اور دار الامان میں حاضر ہو کر از سر نو بیعت کی اور بیعت کے بعد عرض کیا کہ میں پہلے اہلحدیث میں سے تھا اور گو اس وقت سے نمازیں لمبی پڑھتا ہوں مگر نور ایمان اور تقویٰ اور خشیت الہی سے کو راہوں۔حضور مجھے کوئی وظیفہ بتائیں جس سے یہ خشکی کی حالت دور ہو۔اور ایمانی کیفیت دل میں پیدا ہو۔حضور نے فرمایا کہ تم آنحضرت مال پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔اور استغفار کیا کرو۔ان کی برکت سے یہ خشکی انشاء اللہ تعالیٰ دور ہو جائے گی۔اور فرمایا کہ درود شریف وہی پڑھا کرو۔جو نمازوں میں پڑھا جاتا ہے۔سو جب میں نے پر عمل کرنا شروع کیا تو اللہ تعالی کے رحم اور کرم سے وہ خشکی کی حالت اس پر جاتی رہی۔۲۹۱ درود واستغفار بہترین وظیفہ ہے رساله درود شریف اور انہی ایام میں ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ میرے والد صاحب چشتیائی طریق سے تعلق رکھتے ہیں۔اس لئے میرا بھی اس طریق کے و ظائف کی طرف میلان رہا ہے۔بلکہ کسی حد تک اب بھی ہے۔پس حضور مجھے کوئی وظیفہ بتا ئیں۔جو میں پڑھا کروں۔فرمایا ہمارے ہاں تو کوئی ایسا وظیفہ نہیں ہے۔ہاں استغفار بہت کیا کریں۔اور حضرت نبی کریم میر کے احسانات کو یاد کر کے آپ پر کثرت سے درود بھیجا کریں۔بس یہی وظیفہ ہے۔اور ایک دفعہ میرے ایک دوست چودھری محمد خاں صاحب رئیس جستر وال ضلع امرت سر نے جو حضور کے پرانے مخلصین میں سے تھے۔میری موجودگی میں عرض کیا کہ مجھے کوئی وظیفہ بتایا جائے۔انہیں بھی حضور نے درود شریف اور استغفار ہی بتایا۔نوٹ: درود (جس کا نام صلوۃ ہے) کی بناء ہر حالت میں شکر پر ہی ہوتی خواہ انسان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حق میں ہو جیسے: انا ہے۔أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ۔یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کے حق میں جیسے: اُو لَيْكَ عَلَيْهِمْ صَلوتٌ جس کے بعد فرمایا فَإِنَّ اللہ شاکر۔یا بندہ کی طرف سے بندہ کے حق میں بصورت دعا ہو جیسے خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ کے بعد وَ صَلِّ عَلَيْهِمْ کا حکم ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا آنحضرت پر درود فَاِنَّ اللهَ شَاکر کے ماتحت ہے۔اور ملائکہ کا آپ کے ذریعہ سے ان کی کوششوں کے بار آور ہونے پر۔اور مومنوں پر آپ کے احسانات کی تو کوئی انتہاء نہیں۔(خاکسار مرتب رسالہ)