رسالہ درود شریف — Page 156
رساله درود شریف ۲۹۲ درود شریف انسان کو خدا تعالیٰ سے بے نیاز نہیں کر دیتا مکرمی شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت پرانے مخلصین میں سے ہیں اپنے ایک خط بنام خاکسار میں لکھتے ہیں:۔ایک دفعہ ہم دس بارہ آدمی پٹیالہ سے یہ معلوم سے یہ معلوم کر کے کہ آجکل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انبالہ چھاؤنی میں تشریف فرما ہیں۔صرف زیارت کی غرض سے وہاں گئے۔یہ وہ وقت تھا جب کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب ( والد ماجد حضرت ام المومنین رضی اللہ عنما) ہنوز بسلسلہ ملازمت انبالہ چھاؤنی میں رہتے تھے۔جو زمانہ شیر خوارگی حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالی تھا۔جب ہم لوگ حضور کی خدمت میں بنگلہ ناگ پھنی میں جو حضور نے کرایہ پر لیا ہوا تھا حاضر ہوئے۔تو حضور نے اطلاع پاتے ہی شرف باریابی بخشا۔اور قریب ایک گھنٹہ کے ہم خدمت میں حاضر رہے۔اس جلسہ میں ہمارے ہمراہیوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا کہ مجھ کو ایک درویش ایک خاص درود بتا گئے ہیں جس کی تاثیر اس درویش نے یہ بتائی تھی کہ جو مشکل پیش آئے۔اس درود شریف کو پڑھ لیا کرو۔وہ مشکل حل ہو جائے گی۔اور کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ جب کوئی مشکل کا وقت آیا تو جہاں میں نے اس درود شریف کا ورد کیا۔وہ مشکل فورا حل ہو گئی۔حضور کی اس بارہ میں کیا رائے ہے۔حضور نے فرمایا کہ:۔درود شریف کے جس قدر بھی فضائل بیان کئے جائیں کم ہیں۔میں خود اس کا صاحب تجربہ ہوں۔مجھ پر جو خدا تعالیٰ کے ۲۹۳ رساله درود شریف انعامات ہیں۔درود شریف کی برکات اور تاثیرات کا اس میں زیادہ حصہ ہے۔درود شریف کا ورد کرنے والا نہ صرف ثواب اخروی پاتا ہے بلکہ وہ اس دنیا میں بھی عزت پاتا ہے۔لیکن باوجود اس کے میں کسی ایسے درود کا قائل نہیں کہ جو انسان کو خدا سے بے نیاز کر دے۔اور جس کے درد کے بعد قضا و قدر کے احکام خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہ رہیں بلکہ درود رہیں بلکہ درود خواں ان پر حاکم ہو جائے۔اس مقام پر حضور کے کلام میں جوش کے آثار نمایاں۔ہو گئے اور چہرہ پر سرخی آگئی۔اور فرمایا کہ بیشک درود شریف کی بڑی برکات اور تاثیرات ہیں اور اس کی کثرت سے انسان پر برکات نازل ہوتی ہیں۔اور اسکی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کے بے شمار فضائل ہیں۔لیکن باوجود اس کے انسان کو خدا تعالی کی بے پروائی اور بے نیازی سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔کبھی ایسا بھی وقت ہو تا تھا کہ جس نبی اکرم م پر درود بھیج کر لوگ خیرو برکت پاتے ہیں۔خود اسے بھی خدا کے احکام کے آگے تسلیم ورضا کے سوا چارہ نہ تھا۔پس درود خوب پڑھو۔اور کثرت سے پڑھو۔مگر اس بات کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھو۔اور خدا تعالیٰ کو قادر مطلق اور بے نیاز خدا سمجھو۔اور تسلیم اور رضا پر ایمان کی بنیاد رکھو۔حضور نے اس شخص سے وہ درود شریف دریافت نہیں فرمایا تھا۔اور آپ نے فرمایا کہ وہ درود اچھا ہو گا اور ہر وہ کلام جس میں آنحضرت میر پر صلوۃ و سلام ہو۔وہ درود شریف ہی ہے۔اگر آپ کو