رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 137 of 169

رسالہ درود شریف — Page 137

۲۵۵ رساله درود شریفه رساله درود شریف ۲۵۴ یوں ادا کیا گیا ہے۔وَالَّذِيْنَ جَاءُ وَ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا جاویں۔ان کا قلع قمع کرتے رہیں۔اور یہ ضروری بات ہے کہ آپ کی کچی تعلیم و تربیت کا نمونہ ہمیشہ بعض ایسے لوگوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا رہے۔جو امت مرحومہ میں ہر زمانہ میں موجود ہوا کریں۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی بڑی صراحت سے اس بات کو اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلا للذين أمنوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيم - (الحشر) غرض اپنے پہلے بزرگوں اور خادمان اسلام و شریعت محمدیہ کے واسطے دعائیں کرنا اور ان کی طرف سے کوئی بغض و کینہ ، غل و غش دل میں نہ رکھنا یہ بھی ایمان اور ایمان کی سلامتی کا ایک نشان ہے۔پس انسان کو مریج بالفاظ ذیل بیان کیا گیا ہے:۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا کسی سے بغض نہ رکھنا چاہئے التِ لَيَسْتَخْلِفَتَهُمُ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ منْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (الور:۵۷) خدام دین کے لئے دعا کی تعلیم صلی د مرنجاں ہونا چاہئے۔اور خدا کی باریک در بار یک حکمتوں اور قدرتوں پر ایمان لانا چاہئے۔اور کسی سے بھی بغض و کینہ دل میں نہ رکھنا چاہئے۔خدا اسی طرح سے السّلامُ عَلَيْنَا وَ عَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ كنا کی شان ستاری سے ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہنا چاہئے۔کیونکہ ممکن ہے کہ جن اور رسول اللہ مال کے بعد آپ کے دین کے کچھ خادموں جو صحابہ کو تمہاری نظریں برا اور بدخیال کرتی ہیں ان کو توبہ کی توفیق مل جائے۔اولیاء اللہ ، اصفیاء، اتقیاء اور ابدال کے رنگ میں آئے۔اور قیامت تک اللَّهُ أَفَرَحُ بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ خدا اپنے بندوں کی تو بہ سے بہت خوش ہو تا آتے رہیں گے، کے واسطے بھی بوجہ ان کی حسن خدمات کے جن کی وجہ سے ہے۔اس سے بھی بڑھ کر جس کا کسی ویران اور بھیانک وسیع جنگل میں انہوں نے بعد رسول کریم میں والی مہم پر بہت بڑے بھاری احسانات اور سامان خور و نوش گم ہو جائے اور اس لئے اسے ہلاکت کا اندیشہ ہو۔مگر پھر انعامات کئے، دعا کریں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کوئی اس گروہ پاک کی اسے سامان میسر آجائے۔جس طرح وہ شخص خوش ہو گا۔اس سے بھی کہیں مخالفت کرے گا۔اور اس کو نظر عزت سے نہ دیکھے گا۔اور ان کے احکام بڑھ کر خدا اپنے بندوں کی توبہ سے خوش ہو تا ہے۔پس کسی کو حقارت کی نظر اور فیصلوں کی پروا نہ کرے گا۔تو وہ فاسق ہو گا۔بلکہ وہاں تک جہاں تک سے مت دیکھو۔خدا نکتہ نواز بھی ہے۔اور نکتہ گیر بھی۔ممکن ہے جسے تم تعظیم الہی اور تعظیم کتاب اللہ اور تعظیم رسول اللہ عام اجازت دیتی ہو، اس گروہ کا ادب و عزت کرنے اور اِس خیل پاک کے حق میں دعائیں کی وجہ سے راندہ درگاہ اور ہلاک ہو جاوے۔بعض بدیاں حبط اعمال کا کرنے کا حکم قرآن سے ثابت ہے۔چنانچہ آیت ذیل میں اس مضمون کو موجب ہو جاتی ہیں۔اور بعض اعمال جنم میں لے جاتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو اسے توبہ کی توفیق مل جائے۔اور دوسرا اپنے کبر