رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 136 of 169

رسالہ درود شریف — Page 136

رساله درود شریف ۲۵۲ ۲۵۳ رساله درود شریف کا گمان بھی جن باتوں سے ممکن تھا۔ان کا خود خدا نے اسلام کی کچی اور پاک تعلیم میں ایسا بندوبست کر دیا۔کہ ممکن ہی نہیں۔کہ کوئی مسلمان اس امر کا مر تکب ہو۔طرح سے اور قومیں اپنے محسنوں اور نبیوں کو بوجہ ان کے انعامات کثیرہ کے غلطی سے بجائے اس کے کہ ان کو خد انمائی اور خداشناسی کا ایک آلہ سمجھتے۔انہی کو خدا بنا لیا۔اور توحید سکھانے والے لوگوں کو واحد ویگانہ مان لیا۔اور ان کی تعلیمات کو جو نہایت ہی خاکساری اور عبودیت سے بھری ہوئی تھیں۔بھول کر ترک کر دیا۔اور انہی کو معبود یقین کر لیا۔ہم مسلمان بھی ممکن تھا کہ سلام بصیغہ مخاطب بھیجنے کی وجہ ایسا کر بیٹھتے۔مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے اور اس امت جومہ پر رحم کرنے اور اسے خطرناک ابتلا سے بچانے کی غرض سے مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ کا فقرہ ہمیشہ کے لئے توحید التی لا اله الا الله مرحومہ کا جزو بنا کر مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے شرک سے بچالیا۔آپ کی قبر کا مدینہ میں ہونا بھی شرک سے امن کا موجب ہوا مگر چونکہ محسن سے محبت کرنا اور گرویدہ احسان ہونا انسانی فطرت کا تقاضا تھا۔اس واسطے ایک راہ کھولدی۔کہ ہم آپ کے لئے دعا کیا کریں اور اس طرح سے آنحضرت مال کے مدارج میں ترقی ہوا کرے۔چنانچہ ہر مسلمان نماز میں آنحضرت ملا وَرَحْمَةٌ کے واسطے السّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرّ الله وبركاته کا پاک تحیہ پیش کرتا ہے۔اور درد دل سے گداز ہو کر گویا آپ کے احسانات اور مہربانیوں کے خیال سے آپ کی ایسی محبت پیدا کر لیتا ہے۔جیسے آنحضرت میں اور اس کے سامنے موجود ہیں۔آپ کے حسن و احسانات کے نقشہ اور مہربانیوں سے آپ کا وجود حاضر کی طرح سامنے لاکر مخاطب کے رنگ میں دعا کرتا ہے۔السلام عليْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ بلکہ اسی بار یک حکمت کے لئے آنحضرت میر کی قبر بھی مدینہ منورہ میں بنوائی۔مکہ معظمہ میں نہیں رکھی۔کیونکہ اگر مکہ معظمہ میں آپ کی قبر ہوتی تو ممکن تھا کہ کسی کے دل میں خیال پرستش کا آجاتا۔یا کم از کم دشمن اور مخالف ہی اس بات پر اعتراض کرتے۔مگر اب مدینہ میں قبر ہونے سے جو لوگ مکہ معظمہ میں جانب شمال سے جانب جنوب منہ کر کے نماز ادا کرتے برکت کی دعا میں کیا تعلیم ہے نہیں۔تو ان کی پیٹھ آنحضرت امام کی قبر مبارک کی طرف ہوتی ہے۔اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے یہ ایک راہ آپ کی قبر کے نہ پوجا جانے اور مسلمانوں کے شرک میں مبتلا نہ ہونے کے واسطے بنا دی۔غرض اسی طرح جن باتوں میں اس بات کا وہم و گمان بھی ہو سکتا تھا کہ کوئی انسان آپ کو خدا بنائے گا۔یا آپ کے شریک فی الذات یا فی الصفات ہونے بركة عربی زبان میں تالاب کو کہتے ہیں۔یہ اس نشیب کا نام ہے جہاں ادھر ادھر کا پانی جمع ہوتا ہے۔مبارک بھی اسی سے نکلا ہے۔اور برکت بھی اسی سے ہے۔مطلب یہ کہ آنحضرت می کی امت میں ہمیشہ کچھ ایسے پاک لوگ پیدا ہوتے رہیں۔جو آنحضرت امام کے اصل اور حقیقی مذہب اور تعلیم توحید کو قائم کرتے اور شرک و بدعات کا جو کبھی امتداد زمانہ کی وجہ سے اسلام میں راہ پا