رسالہ درود شریف — Page 100
رساله درود شریف A۔کے احسانات سے بہت بڑھ کر ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔(کیونکہ ان کے احسان کے برابر ان سے حسن سلوک کرنا احسان نہیں بلکہ محض عدل ہو گا اور اس میں کمی رکھنا ظلم میں داخل ہو گا۔اور احسان اسی صورت میں ہو گا کہ ان کے احسانات سے بڑھ کر ان سے حسن سلوک کیا جائے۔اور بموجب آيت وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ (بى اسرائیل:۲۵) ان کے آگے اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ گرے رہنا۔اور ان کی رحمت و شفقت کی انہیں بہترین جزا دینا (جس کا نام اس آیت میں بطریق مشاکلہ رحمت ہی رکھا گیا ہے)۔اور دوسری صورت یہ بتائی گئی ہے کہ ان کے احسانات کو یاد کر کے اور نظر کے سامنے لا کر ان کے بدلہ میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب کرنا اور ان کے لئے دعائیں کرنا۔جیسا کہ فرمایا وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔یعنی اپنے والدین کے لئے دعا کیا کرو کہ اے میرے رب جس طرح انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی تھی۔اسی طرح تو ان پر رحمت اور فضل کرے پس جب آنحضرت ام کا رشتہ والدین کے رشتہ سے بہت ہی بڑا امام ہے۔اور آپ کے احسانات کے سامنے والدین کے احسانات کچھ بھی چیز نہیں۔تو جس قدر والدین کی حقوق شناسی اور احسانمندی ضروری ہے۔اس سے بدرجہا بڑھ کر آنحضرت میم کی حقوق شناسی اور احسانمندی ضروری ہوگی۔اور اس کی بھی دو ہی صورتیں ہیں۔ایک یہ کہ جس کام کے لئے آپ نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی تھی۔اس کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی جائے۔اور جس راستے پر آپ اپنی امت کو چلانا چاہتے تھے۔اسے اختیار کر کے استقامت کے ساتھ آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔اور ذکر JAI رساله درود شریف الہی اور اعلائے کلمتہ اللہ کا شغل رکھا جائے۔اور اس کے لئے ہر قدم پر آپ کے پاک نمونہ کی پیروی کی جائے۔اور آپ کے محاسن اور محامد سے غافل لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔اور آپ کی شان ارفع کے خلاف جو باتیں کسی جاتی ہیں۔اور آپ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ان کا ابطال کیا جائے۔اور دوسری صورت یہ ہے کہ آپ کے احسانات کو یاد کر کے آپ کے لئے دعائیں کی جائیں۔اور کثرت سے اور نہایت محبت اور خلوص سے آپ پر درود بھیجا جائے اور آپ کے رفع درجات اور آپ کے مقاصد کی تکمیل کے لئے اور دین اسلام کے لئے اور انصار دین کے لئے دعائیں کی جائیں۔اور رمضان شریف کا اور درود شریف کا باہم تعلق اور برکات کے لحاظ سے ان کی مناسبت بھی واضح ہے۔قرآن کریم میں رمضان شریف کا اور نزول قرآن کریم کا خاص تعلق بیان کر کے اس کی جو برکات بتائی گئی ہیں۔وہ بتاتی ہیں کہ رمضان شریف انسان کو خدا تعالیٰ کی جناب میں ایسا قرب بخشا ہے۔کہ اگر کوئی روک درمیان میں نہ ہو۔تو وہ مکالمہ الہیہ اور وحی الہی سے بھی مشرف ہو سکتا ہے اور اسے دعاؤں کی قبولیت کا اور ان کے متعلق خدا تعالی کی طرف سے جواب پانے کا انعام بھی مل سکتا ہے۔اور درود شریف کی بھی یہی برکات قرآن کریم سے اور احادیث نبویہ سے ثابت ہوتی ہیں۔نوٹ ۴۔والدین کی خدمت حقوق العباد میں سے سب سے اہم حق ہے۔اور روزہ حقوق اللہ میں سے وہ حق ہے جس کی نسبت ایک حدیث میں آتا ہ القَومُ لِى وَأَنَا أَجْرِى بِهِ - یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ محض مجھے پانے کے لئے رکھا جاتا ہے اور اس کا بدلہ بھی میری ہی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی روزہ حقوق اللہ میں سے ہے۔جس کا ثمرہ اللہ تعالیٰ کو پالینا