The Revealed Sermon — Page 6
6 KHUTBAH ILHAMIYYAH - خطبة الهاميه فَكَرَ فِي هَذَيْنِ الْمَقْهُومَيْنِ الْمُشْتَرِكَيْنِ، وَتَدَبَّرَ ہر دو مفهوم که باهم در لفظ نسک اشتراک می دارند غور کرده باشد ان دونوں مفہوموں میں کہ جو باہم نسک کے لفظ میں مشارکت رکھتے ہیں غور کی ہوگی اور اس مقام کو تدبر الْمَقَامَ بِتَيَقُظِ الْقَلْبِ وَفَتْحِ الْعَيْنَيْنِ، فَلا يَبْقَى وایس مقام را بنگاه تدبر دیده و به بیداری دل و کشادن هر دو چشم همه پیش و پس آنرا زیر نظر داشته باشد. پس را به هر کا دیکھا ہوگا اور اپنے دل کی بیداری اور دونوں آنکھوں کے سے پیش وپس کو زیر نظر رکھا ہوگا پس اُس پر کی نگاہ سے کھولنے لَهُ خِفَاءٌ وَلا مِرَاءُ، فِي أَنَّ هَذَا إِيمَاءٌ إِلَى أَنَّ گا اور اس امر میں کسی قسم کی بر و پوشیده نخواهد ماند و دریں امر هیچ نزاعی دامن او نخواهد گرفت که این اشتراک دو معنی که در لفظ نسک موجود و پوشیدہ نہیں رہے گا کو تنہیں پکڑے گی کہ یہ دو معنوں کا اشتراک کہ جو نیک کے کی نزاع اس کے دامن قسیم الْعِبَادَةَ الْمُنْجِيَةَ مِنَ الْخَسَارَةِ، هِيَ ذَبْحُ النَّفْسِ است سوئے ایں راز اشاره است که پرستشی که از خسران آخرت نجات دهد آن کشتن نفس اماره است که برائے بدی که از دهد نه لفظ میں پایا جاتا ہے اس بھید کی طرف اشارہ ہے ہے کی كقص عبادت وہ اس فس امارہ کا جو آخرت کے خسارہ سے نجات دیتی ہے بل الْأَمَّارَةِ، وَنَحْرُهَا بِمُدَى الْاِنْقِطَاعِ إِلَى اللهِ و بدکاری بسیار در بسیار جوش با میدارد و حاکم است بسیار بد فرما پس نجات دریں است کہ ایں بد فرمارا ذبح کرنا ہے کہ جو بُرے کاموں کیلئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا اور ایسا حاکم ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم حکم دیتا رہتا ہے who reflects upon the commonality of the two meanings of the word nusuk, and ponders over this station with an awakened heart and open eyes, will not fail to realize, and will not dispute that this commonality in the meanings of nusuk reveals the secret that the worship which delivers one from a loss in the Hereafter is the slaughter of nafs-e-ammārah which is the self that fervently incites towards evil in the likeness of a ruler who constantly enjoins evil. Thus, salvation lies in the fact that one slays the self that enjoins evil by the knives of turning exclusively towards Allah,