عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 9
اور جو ہم نے خدمت کرنے کا عہد کیا ہے اس میں ہماری طرف سے کوئی کمی اور کوتاہی تو نہیں ہو رہی ؟ کیونکہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا ہے که اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا - (بنی اسرائیل: 35) کہ ہر عہد کے متعلق ایک نہ ایک دن جواب طلبی ہوگی۔یہ عبادت تو ایک بنیادی چیز ہے اور یہی انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اور اس کا حق تو ہم نے ادا کرنا ہی ہے۔اس میں سستی تو ، خاص طور پر عہدیداروں کی طرف سے بالکل نہیں ہونی چاہئے بلکہ کسی بھی حقیقی مومن کی طرف سے نہیں ہونی چاہئے۔اس کے علاوہ بھی بعض باتیں ہیں جن کا عہد یداروں کو خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے اور یہ باتیں لوگوں کے حقوق اور افراد جماعت کے ساتھ عہد یداروں کے رویوں سے تعلق رکھتی ہیں اور اسی طرح یہ باتیں عہدیداروں کے عہدوں سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔کوئی عہدیدار افسر بننے کے تصور سے یا بنائے جانے کے تصور سے کسی خدمت پر مامور نہیں کیا جاتا بلکہ اسلام میں تو عہد یدار کا تصور ہی بالکل مختلف ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔(كنز العمال كتاب السفر الفصل الثانى فى آداب السفر جزء 6 صفحه 302 حدیث 17513 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) پس ایک عہد یدار کا لوگوں کے معاملے میں اپنی امانت کا حق ادا کرنا اس کا قوم کا خادم بن کر رہنا ہے۔اور یہ حالت اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب انسان میں قربانی کا مادہ ہو۔اس میں عاجزی اور انکساری ہو۔اس کا صبر کا معیار دوسروں سے اونچا ہو۔بعض دفعہ عہدیداروں کو بعض باتیں بھی سننی پڑتی ہیں۔اگر نی پڑیں تو سن لینی چاہئیں۔اپنا یہ جائزہ تو عہد یدار خود ہی لے سکتے ہیں کہ ان کا برداشت کا یہ پیما نہ کتنا اونچا ہے، کس حد تک ہے اور 10