عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 23

عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 8

دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 67۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) پھر فرمایا یا درکھو کہ صرف لفاظی اور استانی کام نہیں آ سکتی جب تک عمل نہ ہو“۔اور محض باتیں عند اللہ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 77۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) عمل کے علاوہ اگر اور باتیں ہیں تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کھول کر بتایا کہ ہمارے عمل اور قول میں تضاد نہیں ہونا چاہئے۔پس اس بات کو سامنے رکھ کر اپنے جائزے لینے والے سب سے زیادہ ہمارے عہد یدار ہونے چاہئیں۔جہاں فاصلے زیادہ ہیں یا چند گھر ہیں اور مسجد یا سینٹر کی سہولت موجود نہیں وہاں گھروں میں نمازوں کا اہتمام ہو سکتا ہے اور عملاً یہ مشکل نہیں ہے۔بہت سے احمدی ہیں جو اس کی پابندی کرتے ہیں۔ان کے پاس کوئی با قاعدہ خدمت بھی نہیں ہے۔کسی عاملہ کے ممبر بھی نہیں ہیں لیکن اپنے گھروں میں ارد گرد کے احمدیوں کو جمع کر کے نماز باجماعت کا اہتمام کرتے ہیں۔پس اگر احساس ہو تو سب کچھ ہوسکتا ہے اور ہمارے ہر عہد یدار میں نماز باجماعت کی ادائیگی کا احساس ہونا چاہئے ورنہ امانتوں کا حق ادا کرنے والے نہیں ہوں گے جس کی قرآن کریم میں بار بار تلقین کی گئی ہے۔پس ہمیشہ عہد یداران کو یہ بات سامنے رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حقیقی مومن کی نشانی ہی یہ بتائی ہے کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔ان کی نگرانی کرنے والے ہیں۔یہ دیکھنے والے ہیں کہ کہیں ہمارے سپر دجو امانتیں کی گئی ہیں 9