رسومات کے متعلق تعلیم

by Other Authors

Page 32 of 61

رسومات کے متعلق تعلیم — Page 32

32 پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے۔یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریقہ ہے جو احکام شریعت کے بالکل بر خلاف ہے۔بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں رشتہ ناطہ میں یہ دیکھنا چاہئے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا تو نہیں جو موجب فتنہ ہو اور یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمُ (الحجرات : 14) یعنی تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ تر پر ہیز گار ہے ہماری قوم میں ایک یہ بھی بد رسم ہے کہ شادیوں میں صدہا روپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے۔سو یا درکھنا چاہئے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاجی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا۔یہ دونوں باتیں عند الشرع حرام ہیں اور آتش بازی چلانا اور رنڈی بھڑوؤں ڈوم ڈھاریوں کو دینا۔یہ سب حرام مطلق ہے نا حق روپیہ ضائع ہو جاتا ہے اور گناہ سر پر چڑھتا ہے۔سو اس کے علاوہ شرع شریف میں تو صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے ولیمہ کرے یعنی چند دوستوں کو کھانا پکا کر کھلا دیوے۔ملفوظات جلد پنجم ص 48 49﴾ حضرت مصلح موعود نے حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی بڑی صاحبزادی سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ کی تقریب رخصتانہ کے موقع پر ایک اہم تقریر فرمائی تھی۔اس تقریر سے اصولی طور پر ان رسومات کے متعلق راہ نمائی