رسومات کے متعلق تعلیم — Page 56
56 ہوں تو میری غرض اور نیت اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار ہوتی ہے ایسا ہی اس آمین کی تقریب پر بھی ہوا ہے۔اس وقت جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کلام کو پڑھ لیا تو مجھے کہا گیا اس تقریب پر میں چند دعائیہ شعر جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکریہ بھی ہو لکھ دوں میں جیسا کہ ابھی کہا ہے کہ اصلاح کی فکر میں رہتا ہوں میں نے اس تقریب کو بہت ہی مبارک سمجھا اور میں نے مناسب جانا کہ اس طرح پر تبلیغ کر دوں۔“ 66 ملفوظات جلد دوم صفحہ 389 390 یہ رسمیں کیسے بنتی ہیں ؟ کیوں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے محض نمائش اور دکھاوا اور اس بات کے اظہار کے لئے کہ ایک نے شادی یا کسی اور تقریب پر پانچ ہزار خرچ کئے تو دوسرا فخر یہ یہ کہتا ہے میں نے دس ہزار کئے محض نمائش۔دکھاوا یا برادری میں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے۔حالانکہ مومن کی زندگی کا مقصد دین کو دنیا پر مقدم کر رکھنا ہوتا ہے اور یہی مقصد ہر احمدی عورت اور مرد کا ہونا چاہئے اور ہر کام کرنے کی نیت محض رضائے الہی اور اطاعت رسول ﷺ ہونی چاہئے۔دنیا کو دین پر مقدم رکھنے والوں کے انجام کی طرف قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یوں توجہ دلائی ہے فرمایا فَلَمَّا مَنْ طَغَى وَاثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأوى (النازعات : 38) یعنی جس شخص نے احکام الہی سے سرکشی اختیار کی اور دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دی۔یقینا جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔لیکن اس کے برعکس فرماتا ہے