رسومات کے متعلق تعلیم — Page 55
55 جاوے تو یہ ریاء کاری اور تکبر کے لئے ہوگی اس لئے حرام ہے۔لیکن اگر کوئی شخص محض اسی نیت سے کہ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِتْ الضُّحَى : 12) کا عملی اظہار کرے اور مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره: (4) پر عمل کرنے کے لئے دوسرے لوگوں سے سلوک کرنے کے لئے دے تو یہ حرام نہیں۔پس جب کوئی شخص اس نیت سے تقریب پیدا کرتا ہے اور اس میں معاوضہ ملحوظ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا غرض ہوتی ہے تو پھر وہ ایک سونہیں خواہ ایک لاکھ کو کھانا دے منع نہیں۔اصل مدعا نیت پر ہے نیت اگر خراب اور فاسد ہو تو ایک جائز اور حلال فعل کو بھی حرام بنادیتی ہے ایک قصہ مشہور ہے ایک بزرگ نے دعوت کی اور اس نے چالیس چراغ روشن کئے بعض آدمیوں نے کہا کہ اس قد را سراف نہیں کرنا چاہئے اس نے کہا کہ جو چراغ میں نے ریا کاری سے روشن کیا ہے اسے بجھا دو کوشش کی گئی ایک بھی نہ بجھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی فعل ہوتا ہے اور دو آدمی اس کو کرتے ہیں ایک اس فعل کو کرنے میں مرتکب معاصی کا ہوتا ہے اور دوسرا ثواب کا اور یہ فرق نیتوں کے اختلاف سے پیدا ہو جاتا۔اسی طرح پر میں ہمیشہ اسی فکر میں رہتا ہوں اور سوچتا رہتا ہوں کہ کوئی راہ ایسی نکلے جس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا اظہار ہو اور لوگوں کو اس پر ایمان پیدا ہو۔ایسا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے اور نیکیوں کے قریب کرتا ہے میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مجھ پر لا انتہاء فضل اور انعام ہیں ان کی تحدیث مجھ پر فرض ہے پس میں جب کوئی کام کرتا