رسومات کے متعلق تعلیم — Page 53
53 نے کیا اور جس کا نمونہ پیش فرمایا حضور نے اپنے بچوں کی آمین کی اس لئے ہمارے لئے بھی یہ فعل جائز ہے لیکن اس کو بھی رسم نہیں بنانا چاہئے کہ ضرور ہی کیا جائے۔اصل غرض دعا ہے اگر اس تقریب میں بھی اسراف سے کام لیا جانے لگ جائے تو یہ تقریب بھی ناپسندیدہ امر بن جائے گی۔ہاں سادگی سے دعا کی غرض سے تقریب منعقد کی جائے تو اچھی اور پسندیدہ بات ہے۔نومبر 1901ء میں جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی آمین ہوئی اس وقت جیسا کہ حضرت اقدس کا معمول تھا کہ خدا تعالیٰ کے انعام و عطایا پر شکریہ کے طور پر صدقات دیتے تھے آپ نے دعوت دی اس پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے ایک سوال کیا کہ حضور یہ جو آمین ہوئی ہے یہ کوئی رسم ہے یا کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضور نے جو کچھ فرمایا وہ بہت سے شبہات کا ازالہ کرتا ہے اور ہر کام کرتے وقت ہماری راہ نمائی کرتا۔ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا :۔’جوامر یہاں پیدا ہوتا ہے اس پر اگر غور کیا جاوے اور نیک نیتی اور تقویٰ کے پہلوؤں کوملحوظ رکھ کر سو چا جاوے تو اس سے ایک علم پیدا ہوتا ہے میں اس کو آپ کی صفائی قلب اور نیک نیتی کا نشان سمجھتا ہوں کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کو پوچھ لیتے ہیں۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 385 ﴾