رسومات کے متعلق تعلیم — Page 40
40 کو کچھ کھلا دیں تو یہ ہرگز بدعت نہیں ہاں اگر یہ کہا جائے جو نہیں کھلاتا وہ غلطی کرتا ہے تو یہ ضرور بدعت ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے لڑکی کو کچھ دیتا ہے یا آنے والے مہمانوں کو کچھ کھلاتا ہے تو یہ ہرگز بدعت نہیں کہلا سکتی۔خود حضرت۔۔۔( اقدس) نے مبارکہ بیگم کی شادی پر بعض چیزیں اپنے پاس سے روپے دے کر آنے والے مہمانوں کے لئے امرتسر سے منگوائیں جو شخص یہ سمجھ کر کہ ایسا کرنا ضروری ہے ایسا کرتا ہے وہ بدعتی ہے لیکن جو شخص اپنے فطری احساس اور جذ بہ کے ماتحت آنے والوں کی کچھ خاطر کرتا ہے اسے بدعت نہیں کہا جا سکتا۔“ اقتباس تقریر حضرت مصلح موعود 15 مئی 1930 ء میں سمجھتی ہوں کہ شادی بیاہ کی تقریبات کے سلسلہ میں مذکورہ بالا اقتباسات جماعت کی خواتین کی راہ نمائی کرنے کے لئے کافی ہوں گے لیکن تحریک جدید جاری کرنے کے بعد جماعت کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے اور اس لئے کہ امیر وغریب سب اپنے بھائی کی بچی کی شادی میں شرکت کر سکیں۔امیر وغریب کا تفاوت باقی نہ رہے آپ نے حکم دیا کہ احباب جماعت سادگی کے ساتھ رخصتانہ کی تقریب کر دیا کریں سب بھائی بہنیں شادی والے گھرانہ کی خوشی کی تقریب میں شرکت کر لیں دعا کے ساتھ بچی کو رخصت کر دیں۔اور ہمارے معاشرہ کی یہ شادیاں نمونہ بن جائیں تمام عالم اسلام کے گھرانوں کے لئے۔مگر ابھی تک سو فیصد حضرت مصلح موعود کے اس فرمان پر جماعت کے احباب عمل نہیں کر رہے