رسومات کے متعلق تعلیم — Page 39
39 لگاتے ہیں اتنا سامان ہو تو ہم شادی کریں گے۔یہ سب لغو ہے میں متواتر سالہا سال سے جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ ان کی اصلاح کی جائے۔اگر جماعت کے لوگ اس طرف توجہ کریں تو بہت جلد اصلاح ہو سکتی ہے اگر وہ یہ عہد کر لیں کہ ہر ایسی شادی جس میں فریقین میں سے کسی کی طرف سے بھی ایسی شرطیں عائد کی گئی ہوں تو ہم اس میں شریک نہ ہوں گے تو دیکھ لو تھوڑے ہی عرصہ میں وہ لوگ ندامت محسوس کرنے لگیں گے اور ان شنیع حرکات سے باز آجائیں گے بھلا اس سے زیادہ اور کیا ذلیل کن بات ہو سکتی ہے کہ لڑکیوں کے چار پایوں کی طرح سودے کئے جائیں اور منڈی میں رکھ کر ان کی قیمت بڑھائی جائے۔پس ہماری جماعت کو ایسی شنیع حرکات سے بچنا چاہئے اور عہد کرنا چاہئے کہ ایسی شادی میں کبھی شامل نہ ہوں گے خواہ وہ سگے بھائی یا بہن کی ہی ہو۔“ الفضل 18 اپریل 1947 ء کی لڑکی کی شادی میں کھانا یا چائے دینے سے منع فرمایا تا کہ صرف دعا میں کثرت سے لوگ شامل ہوں۔سوائے اس کے کہ لڑکی کی بارات کسی دوسرے شہر سے آ رہی ہو۔لڑکی کی شادی کے موقع پر چائے یا کھانا دینے میں بظاہر کوئی حرج نہیں۔گھر آئے مہمان کی مہمان نوازی کرنا اسلام کا یک حکم ہے لیکن یہ سمجھ لینا کہ ضرور کھلایا جائے یہ بدعت ہے اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود کا ارشاد مندرجہ ذیل ہے:۔وو 66 لڑکی والوں کی طرف سے دعوت جہاں تک میں نے غور کیا ہے ایک تکلیف دہ چیز ہے لیکن اگر لڑکی والے بغیر دعوت کے آنے والوں