رسومات کے متعلق تعلیم — Page 6
غرض اس وقت لوگوں نے سنت اور بدعت میں سخت غلطی کھائی ہوئی ہے اور ان کو ایک خطر ناک دھوکہ لگا ہوا ہے وہ سنت اور بدعت میں کوئی تمیز نہیں کر سکتے۔آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر خود اپنی مرضی کے موافق بہت سی راہیں خود ایجاد کر لی ہیں اور ان کو اپنی زندگی کے لئے کافی راہ نما سمجھتے ہیں حالانکہ وہ ان کو گمراہ کرنے والی چیزیں ہیں۔جب آدمی سنت اور بدعت میں تمیز کر لے اور سنت پر قدم مارے تو وہ خطرات سے بچ سکتا ہے لیکن جو فرق نہیں کرتا اور سنت کو بدعت کے ساتھ ملاتا ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہو سکتا۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 389 ) پھر آپ فرماتے ہیں :۔اعمال صالحہ کی جگہ چند رسوم نے لے لی ہے اس لئے رسوم کے تو ڑنے سے یہی غرض ہوتی ہے کہ کوئی فعل یا قول قال اللہ اور قال الرسول کے خلاف اگر ہو تو اسے توڑا جائے جبکہ ہم۔۔۔۔کہلاتے ہیں اور ہمارے سب اقوال اور افعال اللہ تعالیٰ کے نیچے ہونے ضروری ہیں پھر ہم دنیا کی پرواہ کیوں کریں؟ جو فعل اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے رسول لے کے خلاف ہو اس کو دور کر دیا جاوے اور چھوڑا جاوے جو حدود الہی اور وصایا رسول اللہ علیہ کے موافق ہوں ان پر عمل کیا جاوے کہ احیاء سنت اسی کا نام ہے۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 391۔۔۔۔۔کا پیدا کردہ انقلاب:۔آنحضرت ﷺ سے قبل دنیا شرک گمراہی اور ضلالت میں