راہ ھدیٰ — Page 91
پوچھا کرسی کیا ہے ؟ فرمایا میں ہوں پوچھا لوح کیا ہے ؟ فرمایا میں ہوں پوچھا کہتے ہیں ابراہیم موسیٰ اور محمد صلعم اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں فرمایا میں ہوں ( تذکرة الاولیاء اردو باب ۱۴ صفحه ۳۸ شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز) لدھیانوی صاحب اب فرمائیے اس سے بڑھ کر کوئی اور چیز ہو تو لا کر دکھائیے۔یہ عارفانہ کلام پڑھ کر ہمیں تو سمجھ آگئی ہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ پر کفر کا فتویٰ لگانے والے کس قماش کے آدمی تھے کیا کچھ آپ کے پلے بھی بات پڑی کہ نہیں ؟ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق لکھا ہے۔ایک شخص نے خواجہ سے کہا میں چاہتا ہوں کہ مرید ہو جاؤں کہا لا الہ الا اللہ چشتی رسول اللہ کہو اس نے ایسا ہی کہا خواجہ نے اسے مرید کرلیا۔( حسنات العارفین فارسی صفحه ۱۹ زیر عنوان شلح خواجہ معین الدین) ہندوستان و پاکستان میں کروڑہا بندگان خدا جو حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کو امت محمدیہ کے عظیم ترین اولیاء اور بزرگوں میں شمار کرتے ہیں اور ان کی عقیدت کا دم بھرتے اور ان پر اپنی جان چھڑکتے ہیں وہ سب اس کلمہ یعنی لا الہ الا اللہ چشتی رسول اللہ کو درست سمجھتے ہیں ان سب کے متعلق آنجناب کا کیا فتویٰ ہے کیا ان کے مرشد و امام حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے اس کلمہ کے بعد کیا ان کا کلمہ وہی لا الہ الا الله محمد رسول اللہ رہتا ہے۔کیا وہ سب کلیتہ دائرہ اسلام سے خارج ہونگے۔کیا وہ جب بھی محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھیں گے اس سے مراد چشتی رسول اللہ لیں گے یا پھر ان کے ہاں بھی دو محمد کا تصور موجود ہے اور دو کلمے رائج ہیں۔ایک محمد رسول اللہ کا اور ایک چشتی رسول اللہ کا مہربانی فرما کر اس بارہ میں خوب اچھی طرح و مساحت فرما کر غیر مبہم الفاظ میں فتویٰ صادر فرمائیے اور اس فتوے کی نقول گولڑہ شریف کے گڑی نشینوں کو بھی ارسال فرمائیے۔اور دنیا میں جہاں جہاں چشتی فرقہ کے لوگ رہتے ہیں انہیں بتا دیں کہ ان کا کلمہ شہادت اور دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں رہا۔اس عظیم دینی مہم سے فارغ ہونے کے بعد پھر بے شک احمدایوا یا کی طرف رخ موڑ لیں ( اگر اس وقت