راہ ھدیٰ — Page 66
YY عقید و نمبر ۴۱۴ لدھیانوی صاحب اس عنوان کے تحت لکھتے ہیں۔" مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود گرامی باعث تخلیق کائنات ہے۔آپ کا وجود باجود نہ ہوتا تو کائنات وجود میں نہ آتی۔لیکن قادیانیوں کا عقیدہ ہے کائنات صرف مرزا غلام احمد صاحب کی خاطر پیدا کی گئی ہے۔وہ نہ ہوتے تو نہ آسمان و زمین وجود میں آتے نہ کوئی نبی ولی پیدا ہو تا۔چنانچہ مرزا صاحب کا الہام ہے لولاک لما خلقت الافلاک ( حقیقة الوحی صفحہ 99 ) یعنی اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا " (صفحہ ۲۰) معزز قارئین! اس حدیث قدسی کا ایک تو ظاہر و باہر معنی یہ ہے کہ تمام کائنات حجر و شجر اور تمام تر مخلوقات پیدا کرنے کا اعلیٰ و ارفع مقصد خلیفہ اللہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کرنا تھا۔اور اگر یہ اعلیٰ و ارفع مقصد پیش نظر نہ ہوتا تو یہ ساری پیدائش عبث جاتی یہ وہ معانی ہیں جن پر سو فیصدی بغیر کسی استثناء اور بغیر کسی تاویل کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایمان لائے تھے اور جماعت احمدیہ کا بھی انہی معنوں پر مکمل غیر مشروط ایمان ہے۔یہ امر کہ مولوی صاحب بالا رادہ فریب کاری سے کام لے رہے ہیں اس ایک بات سے ہی قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے حقیقتہ الوحی کے جس صفحہ پر یہ الہام درج فرمایا ہے۔اور جس کا حوالہ لدھیانوی صاحب نے دیا ہے اس صفحہ پر اس الہام کی حسب ذیل تشریح درج ہے۔جو یقیناً مولوی صاحب نے پڑھی ہو گی۔اور اس کے باوجود ظالمانہ حملے کرنے سے باز نہیں آئے۔جس شخص کو کوئی الہام ہوتا ہے۔وہی اس کے معنے بتانے کا سب سے اول اہل اور حقدار ہے۔وہی اس کے معنوں کو صحیح سمجھتا ہے۔اور اس کے برعکس تشریح کر کے اس کی طرف منسوب کرنے کا ہرگز کوئی مجاز نہیں لیکن افسوس کہ اس لدھیانوی مولوی نے اپنی خصلت بنا رکھی ہے کہ پہلے ایک غلط توجیہہ اور عقیدہ کسی کی طرف ناحق منسوب کرتے ہیں اور پھر بے باکانہ حملہ شروع کر دیتے ہیں۔اب قارئین وہ تشریح پڑھیں۔حضرت مرزا صاحب اس کی تشریح میں فرماتے ہیں " ہر ایک عظیم الشان مصلح کے وقت میں روحانی طور پر نیا آسمان اور نئی زمین بنائی جاتی "