راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 48 of 198

راہ ھدیٰ — Page 48

۴۸ ہے۔لیکن محض نمبر شمار بڑھانے کے لئے الفاظ بدل کر وہی بات انہوں نے " عقیدہ نمبر ۳ " کے تحت لکھ دی ہے۔اس لئے جو جواب ہم پہلے دے چکے ہیں وہی کافی ہے۔"عقیدہ نمبر ۴ " (صفحہ ۱۷) اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں کہ " قرآنی عقیدہ یہ ہے کہ رحمتہ للعالمین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔مگر قادیانی عقیدہ یہ ہے اب رحمتہ للعالمین مرزا غلام احمد صاحب ہیں " یہ بھی وہی اعتراض ہے۔صرف اپنی دانست میں نمبر بڑھائے ہیں لیکن ساتھ ہی انسانیت کے لحاظ سے اپنے نمبر گراتے جا رہے ہیں۔مولوی صاحب ! آپ عجیب و غریب عقل کے مالک ہیں اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جو رحمتہ للعالمین کا غلام ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ رحمتہ للعالمین بننے کی بچی کوشش کرے اور تمام بنی نوع انسان کے لئے رحمتہ للعالمین بننے کی کوشش کرے اور اگر وہ اخلاص کے ساتھ کوشش کرے اور اس کوشش میں وہ سچا ثابت ہو تو عملی اور تمثیلی طور پر رحمتہ اللعالمین کہنا ہرگز سنت ابرار کے مخالف نہیں اور یہ کلمہ کفر نہیں بن جاتا۔اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں نکالا جا سکتا کہ اگر غلامان محمد میں سے کسی کو رحمتہ للعالمین کہا جائے تو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پلہ اور ہمسر بن جاتا ہے۔چنانچہ اولیاء امت میں سے حضرت شیخ نظام الدین اولیاء کو کئی مرتبہ آیت قرآنی " وَمَا أرْسَلْتَكَ الاَ رَحْمَةً لِلْعَالَمِين " الہام ہوئی۔لکھا ہے ” حضرت مخدوم (گیسو دراز - ناقل ) نے فرمایا کہ حضرت شیخ ( نظام الدین - ناقل ) فرماتے تھے کہ کبھی کبھی کسی ماہ میرے سرہانے ایک خوب رو اور خوش جمال لڑکا نمودار ہو کر مجھے اس طرح مخاطب کرتا " وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِين" میں شرمندہ سر جھکا لیتا اور کہتا یہ کیا کہتے ہو۔یہ خطاب حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص ہے۔یہ بندہ نظام کس شمار میں ہے جو اس کو اس طرح مخاطب کیا جائے۔" (جوامع الکلم ملفوظات گیسو در از صفحه ۲۲۶ ڈائری روز دوشنبه ۳۰ شعبان ۵۸۰۲) جہاں تک حضرت نظام الدین کے عجز کا تعلق ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے بے شمار حوالے اس بات پر گواہ ہیں کہ آپ نے بھی ایسے الہامات کی وجہ سے کبھی بھی اپنے آپ کو