راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 26 of 198

راہ ھدیٰ — Page 26

M صاحب نانوتوی قرآن و حدیث کے مطالعہ کا ماحصل یوں پیش کرتے ہیں کہ " حضرت موسیٰ کے بعد حضرت عیسی تک جتنے نبی ہوئے سب تورات پر ہی عمل کرتے رہے " ( مدینہ اشیقہ - صفحہ ۲۵ مصنفہ مولانا محمد قاسم نانوتوی ) قارئین کرام الدھیانوی صاحب کے بیان کی تردید کے لئے مندرجہ بالا امور پر نگاہ ڈال کر آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ کیا وہ ایسی واضح باتوں سے ناواقف ہیں یا جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے جھوٹ بول رہے ہیں۔لدھیانوی صاحب مذکورہ بالا عنوان کے تحت دوسرا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ " مرزا صاحب کے عقیدہ بعثت ثانی کو تسلیم کرنے سے پہلے یہ بھی ماننا ہو گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہلی بعثت میں جو کچھ لے کر آئے تھے وہ بعثت ثانی کا دور شروع ہونے سے پہلے صفحہ ہستی سے غائب ہو گیا تھا۔نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین اپنی اصلی شکل میں کہیں موجود تھا نہ اس کے سمجھنے ، سمجھانے والا ہی دنیا میں کوئی باقی رہا تھا مختصر یہ کہ مرزا صاحب کی قادیانی بعثت جوان کے نزدیک محمد رسول اللہ کی دوسری بعثت ہے کا عقیدہ تب ممکن ہے جب کہ پہلے یہ عقیدہ رکھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی بعثت کا نور بجھ چکا تھا۔آپ کی رسالت و نبوت کا چراغ گل ہو چکا تھا۔اس آفتاب رسالت کے بعد بھی دنیا میں عام تاریکی پھیل چکی تھی اور آپ کے بعد بھی پوری کی پوری دنیا گمراہ ہو چکی تھی۔یہ عقیدہ صحیح ہے یا غلط، برا ہے یا بھلا، اس کا فیصلہ بھی آپ عقل خداداد سے خود ہی کیجئے۔میں صرف یہ عرض کروں گا کہ یہ عقیدہ بھی کسی زمانہ میں کسی مسلمان کا نہیں رہا نہ ہو سکتا ہے" (صفحہ ۱۰۹) قارئین کرام ! لدھیانوی صاحب کے اعتراض کی بنیاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ اور مہدی معہود و مسیح موعود کے آنے کو ظلی اور بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے انکار پر ہے جس کے لئے ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ فصل اول کو دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔اگر ہمارا یہ عقیدہ " صریح کفر " ہے تو پھر لدھیانوی صاحب کے جن مسلّمہ بزرگوں، اولیاء اور علماء کے حوالہ جات فصل اول میں درج ہیں ماننا پڑے گا کہ ان سب بزرگوں نے بھی " صریح کفر " کا ارتکاب کیا ہے۔جناب لدھیانوی صاحب نے جب پہلی اینٹ ہی سج رکھ دی تھی تو اب جوں جوں عمارت