راہ ھدیٰ — Page 20
۲۰ کے مظاہر ہیں۔اور روح محمدی نے ان کے اندر بروز فرمایا ہے۔پس یہاں دو روح ہوئے ہیں ایک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روح جو بارز ہے دوسری اس نبی یا ولی کی روح جو مبروز فیہ اور مظہر ہے۔مقابیس المجالس المعروف به اشارات فریدی حصہ دوم صفحہ ۱۱ ۱۱۳ مولقہ رکن الدین صاحب مطبوعہ مفید عام پریس آگره ۱۳۲۱ھ زیر انتظام صوفی قادر علی خان ) اس عبارت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء اور امت میں پیدا ہونے والے جملہ اولیاء اور مجددین سب کے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز بن کر آئے تھے اسی طرح امام مہدی بھی بروز محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آئے گا۔سب آپ نے بروزتیت اور عینیت کے متعلق گذشتہ بزرگوں کے حوالے تو پڑھ لئے ہیں لیکن آپ کو چونکہ امت محمدیہ میں ایسی شان کے آدمی پیدا ہونے پر شدید اعتراض ہے۔اس لئے ہم آپ کو آپ کے بزرگ قاری محمد طیب صاحب کے الفاظ یاد دلاتے ہیں کہ آپ سب کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائے تو نہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عین اور بروز ہونگے بلکہ شانِ خاتمیت رکھتے ہوں گے۔(۷) دیوبندی فرقہ کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ کے نواسے قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند آنے والے مسیح کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:- و لیکن پھر سوال یہ ہے کہ جب خاتم الدجالین کا اصلی مقابلہ تو خاتم النبین سے ہے مگر اس مقابلہ کے لئے نہ حضور کا دنیا میں تشریف لانا مناسب نہ صدیوں باقی رکھا جانا شایان شان نہ زمانہ نبوی میں مقابلہ ختم قرار دیا جانا مصلحت اور ادھر ختم دجالیت کے استیصال کے لئے چھوٹی موٹی روحانیت تو کیا بڑی سے بڑی ولایت بھی کافی نہ تھی عام مجددین اور ارباب ولایت اپنی پوری روحانی طاقتوں سے بھی اس سے عہدہ بر آنہ ہو سکتے تھے جب تک کہ نبوت کی روحانیت مقابل نہ آئے۔بلکہ محض نبوت کی قوت بھی اس وقت تک موثر نہ تھی جب تک کہ اس کے ساتھ ختم نبوت کا پاور شامل نہ ہو تو پھر شکست