راہ ھدیٰ — Page 177
122 بناء پر تمام کفار کو تمثیلی طور پر حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیوی قرار دیا ہے اور مومنین کو صفاتی مشابہت کی بناء پر فرعون کی بیوی اور مریم بنت عمران قرار دیا ہے۔ہم تو جب یہ آیات پڑھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دوسرے مسلمان شرفاء بھی ان آیات کو پڑھتے ہیں تو ان میں مذکورہ تمثیلات کی تہہ میں چھپے ہوئے عرفان کے موتیوں کی تلاش میں ان کی نظر لگی رہتی ہوگی۔لیکن لدھیانوی مولوی کی قماش کے مولوی جب ان آیات کو پڑھتے ہوں گے تو اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے دل میں کیسے کیسے گندے خیالات آتے ہوں گے ؟ عقیدہ نمبر ۶ اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے لکھا ہے ” ہمارے بھائیوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا مرزا صاحب کی جسمانی و دماغی صحت ان کے اس دعوئی سے کہ میں محمد رسول اللہ کی بعثت ثانیہ کا مظہر ہوں کوئی مطابقت رکھتی ہے ؟ مرزا صاحب کے بارے میں ہر عام و خاص جانتا ہے کہ وہ بہت سی پیچیدہ امراض کا نشانہ تھے جن میں سے چند امراض کی فہرست حسب ذیل ہے " ( صفحہ ۴۰ ) اس کے بعد ساری زندگی میں مرزا صاحب کو جو جو بیماری ہوئی ان کی فہرست درج کی ہے۔جسمانی صفات کا مظہر ہونا تو اس ٹیڑھی سوچ والے مولوی کا خیال ہے اس لئے جسمانی بیماریوں میں مشابہتیں تلاش کر رہا ہے۔ورنہ یہ محض کھو کھلی ، گھٹیا اور جاہلانہ باتیں ہیں۔پس جس کی عقل پر حملہ کر رہے ہیں اس پر تو حملہ ہو یا نہ ہو حملہ کرنے والا دیوانہ اور مفتون دکھائی دیتا ہے۔معزز قارئین ! حضرت مرزا صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کے مظہر ہونے کا دعوی کیا ہے جس سے مراد روحانی صفات کا مظہر ہوتا ہے نہ کہ جسمانی صفات کا۔حمل اور بروز میں جسمانی مشابہت نہیں ہوتی بلکہ روحانی اور صفاتی مشابہت کا بیان مقصود ہوتا ہے۔ورنہ تمام انبیاء علی اور اور بروزی طور پر خدا کی صفات کے مظہر ہیں اور آنحضرت