راہ ھدیٰ — Page 178
صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی صفات کے مظہر اتم ہیں۔اگر مظہر ہونے کی بناء پر جسمانی امور کی مشابہت بھی ضروری ہے تو مولوی صاحب سے ہم کہتے ہیں کہ باقی زندگی اس ریسرچ میں صرف کر دیں کہ جملہ انبیاء کو کون کونسے عوارض لاحق ہوئے اور تحقیق مکمل کرنے کے بعد خدا تعالٰی کے متعلق اپنا تصور درست کر لیں اور وہاں اپنا یہ اعتراض لگا کر دیکھیں کہ اگر وہ خدا تعالٰی کے بروز تھے تو وہ بھی ازلی طور پر ان عوارض کا شکار رہا ہو گا اور آئندہ بھی ابدی طور پر انہیں عوارض میں مبتلا رہ کر زندگی کٹے گی۔اسی اعتراض میں لدھیانوی صاحب حضرت مرزا صاحب کو دماغی صحت سے محروم اور پاگل قرار دیتے ہیں۔اصل مماثلت تو انہوں نے خود ثابت کر دی ہے۔صرف حضرت مرزا صاحب کی مماثلت ہی ثابت نہیں کی بلکہ اپنی مماثلت بھی ثابت کر دی ہے۔عجیب بات ہے کہ اشتد ترین مخالف عیسائیوں نے جو حملے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے ہیں وہ سارے حملے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر کرتا چلا جا رہا ہے۔اور ساتھ ساتھ مماثلتیں بھی پوچھ رہا ہے۔مماثلتیں تو جناب لدھیانوی صاحب آپ نے خود پیش کر دیں کہ خدا کے پاک بندوں پر کس کس قسم کے اعتراض کئے جاتے ہیں اور کس کس قسم کے تمسخر کئے جاتے ہیں۔پس ان اعتراضات اور تمسخر کا نشانہ بننے کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کے تمام بھیجے ہوئے مماثلت رکھتے ہیں۔پر اب یہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں رہا کہ کہ مولوی صاحب کی مماثلت کن لوگوں سے ہے۔مولوی صاحب کے طرز خطاب اور تمسخر کے متعلق قرآن کریم کی چند آیات پیش کی جاتی ہیں اور یہی کافی جواب ہے۔اللہ تعالی تمام انبیاء کی نسبت مجموعی طور پر یہ بتاتا ہے کہ كُلَّمَا جَاءَ امَّةً رَسُولُهَا كَذَّبُو، (مومنون آیت نمبر (۴۵) ہر قوم نے اپنے پاس آنے والے رسول کو جھوٹا قرار دیا ہے۔اسی طرح فرمایا مَا يَا تِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ ) میں آیت نمبر ۳۱ ) لوگوں کے پاس جب بھی خدا کا کوئی رسول آتا رہا ہے تو یہ اس کے ساتھ تمسخر و استہزاء ہی