راہ ھدیٰ — Page 169
포 عقیدہ نمبر ۳ اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے پہلی بات یہ کی ہے کہ ”دنیا کی بہت سی قوموں کو اسی بروز یا عین کے عقیدوں نے برباد کیا ہے" (صفحہ ۳۶) ہم تو فصل اول میں بیان کر چکے ہیں کہ ان عقیدوں کے حامل اس مرتبہ کے بزرگوں نے تو دنیا کو برباد نہیں کیا اگر برباد کیا ہے تو ان مولوی صاحب اور ان کے فکر و عمل کے مولویوں نے برباد کیا ہو گا۔لیکن مولوی صاحب جس بات کو بربادی کرنے والی قرار دے رہے ہیں۔یہ ایسی ہی عارفانہ باتیں ہیں کہ قرآن کریم میں جن کے متعلق لکھا ہے۔يُضِلُّ بِهِ كَثِيرٌ أَو يَهْدِي بِهِ كثيراً بعض اوقات عارفانہ کلام خوش نصیبوں کو ہدایت بخش دیتا ہے اور بد نصیبوں کو برباد کر دیتا ہے۔( صفحه ۳۶) لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں " مرزا صاحب نے " مرزا عین محمد ہے " کا نظریہ ایجاد کر کے عیسائیت کی بنیادوں کو اور مستحکم کر دیا ہے ذرا سوچئے اگر عیسائی یہ سوال کریں کہ اگر مسیح موعود عین محمد ہو سکتا ہے تو مسیح ابن مریم عین خدا کیوں نہیں ہو سکتا تو آپ کے پاس خاموشی کے سوا اس کا کیا جواب ہو گا ؟ لدھیانوی صاحب اس اعتراض کا جواب بار بار گزر چکا ہے آپ تو ایک نہایت اعصاب شکن مولوی ہیں جو ایک ہی رٹ لگائے چلے جا رہے ہیں لفظ مینِ محمدؐ کے جو معنی آپ سمجھ رہے ہیں ہم پھر اعلان کرتے ہیں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ مرزا صاحب ان معنوں میں عین محمد تھے۔ہرگز نہیں تھے۔جن معنوں میں حضرت بایزید عطائی اور دیگر بزرگوں کی نسبت لفظ عین محمد استعمال ہوا ہے صرف ان عاجزانہ اور عارفانہ معنوں میں حضرت مرزا صاحب نے بھی ”عین محمد " کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ محاورہ کسی احمدی کی ایجاد نہیں بلکہ یہ ان علماء و اولیائے امت کی ایجاد ہے جو مرزا صاحب سے پہلے گزر چکے ہیں پس اگر لدھیانوی صاحب کی دانست میں اس سے عیسائیت کو تقویت ملتی ہے تو آپ کا جھگڑا احمدیت سے نہیں بلکہ بزرگانِ امت سے ہے جس طرح چاہیں یہ قضیہ طے کریں مزید برآں آپ عین محمد سے جو استنباط کرنے لگے ہیں اس کے بجائے عیسائیوں کو تقویت دینے کے لئے ابوالحسن خرقانی رحمتہ اللہ کا " عین اللہ " کا استعمال کیوں نہیں پکڑ لیتے جس سے بہت زیادہ عیسائیت کو تقویت ملے گی۔اور آپ کا دل ٹھنڈا ہو گا۔لیکن صرف وہی مسلمان گمراہ ہوں گے جو یہاں ”عین " کے وہی معنی کریں گے جو