راہ ھدیٰ — Page 12
ایشاں منصبغ می گردند حتی که فرق نمی ماند در میان مقبوعان و تابعان الا بالا صالت و التبعیته و الاوليته والاخر نتہ " کہ انبیاء علیهم السلام کے کامل قبع بہ سبب کمال متابعت و محبت انہیں میں جذب ہو جاتے ہیں اور ان کے رنگ میں ایسے رنگین ہوتے ہیں کہ تابع اور متبوع یعنی نبی اور امتی میں کوئی فرق نہیں رہتا سوائے اول و آخر اور سوائے اصل اور تابع ہونے کے " (مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر ۲۴۸ حصه چهارم دفتر اول صفحه ۴۹ مطبوعه مجددی پریس امرتسر) یہ من و عن حضرت مجدد الف ثانی کی تحریر ہے۔اگر کوئی مولویانہ ذہنیت سے یہ تحریر پڑھے تو بھڑک اٹھے اور اول و آخر کے بارہ میں یہ کہے کہ محض زمانی ہے۔لیکن ہم سمجھتے ہیں۔مجدد الف ثانی صاحب کی اس تحریر میں اول اول ہی ہے۔خواہ کوئی کتنی ہی مشابہت رکھے مگر مشابہت رکھنے والا بعینہ اول کا ہم مرتبہ نہیں ہو سکتا ہم صفات تو بن سکتا ہے ہم مرتبہ نہیں۔بہر حال یوسف لدھیانوی صاحب کیونکہ ایسی ذہنیت رکھتے ہیں کہ اس قسم کی تحریرات پر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے ان پر لازم ہے کہ حضرت مرزا صاحب پر زبان دراز کرنے کی بجائے حضرت مجدد الف ثانی پر زبان دراز کر کے دیکھیں۔حضرت مجدد الف ثانی کی محبت تو ایسے دلوں پڑھی جاگزیں ہے جو صبر و ضبط نہیں جانتے۔اس لئے ہمیں یہ یقین ہے کہ لدھیانوی صاحب حضرت مجدد الف ثانی " پر ہرگز ایسی بے باکی نہیں کریں گے اور اس مصلحت آمیز خاموشی کی وجہ سے اپنا جھوٹا اور دوغلہ ہونا ثابت کر دیں گے۔پس اگر مولوی صاحب کو اسلامی لٹریچر میں کہیں بروز کی اصطلاح دکھائی نہیں دی تو ان کی نظر کا قصور ہے اسلامی لٹریچر کا قصور نہیں۔لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔اسلامی لٹریچر میں تو بروز سے آگے بڑھ کر عین کی اصطلاح بھی موجود ہے۔اور ایسے بزرگ موجود ہیں جن کے متعلق ان سے عقیدت رکھنے والوں نے عین محمدؐ کے لفظ لکھے ہیں ان کے قتل عام کا لدھیانوی صاحب کیوں حکم صادر نہیں فرماتے دیکھتے بایزید کے متعلق لکھا ہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ چونکہ قطب زمانہ تھے۔اس لئے آپ تین رسول علیہ السلام تھے۔چنانچہ بحر العلوم مولوی عبد العلی مثنوی مولانا روم کے شعر سے