راہ ھدیٰ — Page 160
اچھا ہے۔۔اور جہاں تک ہمارا رسالہ پڑھ کر آپ کے تاثر کا تعلق ہے ہمیں اس کے جواب کی ضرورت نہیں۔کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں پہلے ہی سے ان اعلانیہ تاثرات سے بھی آگاہ فرما رکھا ہے جو آپ کی زبان سے نکلیں گے اور ان تاثرات سے بھی آگاہ فرما رکھا ہے جو آپ کے سینہ نے چھپا رکھے ہیں۔عقیدہ نمبرا - اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے اپنی اس کتاب میں موجود تمام اعتراضات و الزامات کو محض دہرایا ہے۔البتہ ایک نیا اعتراض کیا ہے۔سب سے پہلے ہم اس نئے اعتراض کا جائزہ لیتے ہیں۔لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں :۔" قرآن بھی قادیان کے قریب ہی اتر آیا انا انزلناه قريبا من القاديان۔( تذکرہ صفحہ ۷۶)" (صفحه ۳۲) ہم سب سے پہلے پورا اقتباس درج کرتے ہیں جس کی بناء پر لدھیانوی صاحب نے اپنے افتراء کی عمارت تعمیر کی ہے۔حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں :- " کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ "انا انزلناه قريبا من القادیان" تو میں نے سن کر تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے ؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔تب میں نے نظر ڈالی جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔" (ازالہ اوہام حاشیہ صفحہ ہے کے کے روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحه ۱۳۹) قارئین کرام ! جیسا کہ آپ دیکھ چکے ہیں کہ اس تمام عبارت میں کہیں اشار پا بھی قرآن کریم کے قادیان کے قریب نازل ہونے کا ذکر نہیں پس یہ نتیجہ نکالنا ہرگز زیادتی نہیں کہ لدھیانوی صاحب نے عمدا پورا اقتباس پیش کرنے سے اس لئے گریز کیا ہے کہ ایک فقرے