راہ ھدیٰ — Page 11
روحانیت میں کامل لوگوں کی روحانیت بسا اوقات سالکوں پر اس انداز سے تصرف فرماتی ہے۔کہ ان کے افعال کی فائل بن جاتی ہے۔اور صوفیاء اس مرتبہ کو بروز کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔شاہ محمد مبارک علی صاحب نے خزائن اسرار الكلم مقدمہ فی شرح فصوص الحکم میں یہ عنوان باندھا ہے۔اٹھارواں مراقبہ مسئلہ بروز اور تمثل کے بیان میں " جس میں یہ لکھا ہے۔بروز کو تاریخ نہیں سمجھنا چاہئے۔یہ نہیں ہوتا کہ پرانی روح ایک نئے وجود میں آجائے اسے تاریخ کہا جاتا ہے انہوں نے بات کھول دی ہے کہ بروز تاریخ نہیں۔مثال پیش کرتے ہوئے ہم ان کی یہ عبارت من و عن نقل کرتے ہیں جس سے لدھیانوی صاحب کا مرزا صاحب پر اعتراض باطل ہو جائے گا۔دیکھئے اس بزرگ کی سوچ کتنی عمدہ اور صاف تھی کہ بروز کی مراد ایسی ہے جیسے ایلیا کے دوبارہ آنے کا عقیدہ یہودیوں میں رائج تھا۔جب کئی آگئے تو صفات کے لحاظ سے ایلیا کہلائے۔ایسا ہی عیسی کا نزول ہو گا۔گویا ان کے نزدیک نہ وہی عینی بدن آخر میں حلول کریں گے۔بلکہ بصورت صفات جلوہ گر ہوں گے اور ان کے نزدیک صفات کی جلوہ گری یہ نہیں کہ تمام صفات میں ہو بلکہ چند صفات کی جلوہ گری بروز بنانے میں کافی ہے حتی کہ بعض اوقات ایک صفت کی وجہ سے بروز ہو جاتا ہے۔فرمایا ” اور ایسا ہی حکم بروز اوریس علیہ السلام کا بنا مزد الیاس علیہ السلام کے۔اور نزول عیسی علیہ السلام کا آسمان سے اور یہ کبھی یہ سبب غلبہ کسی ایک صفت کے ہوتا ہے۔اور کبھی بغلبہ جمیع صفات کمالیہ کے۔اس صورت میں کمال اتحاد مظہر کا بارز کے ساتھ ہو گا اور یہ قسم اعلیٰ مرتبہ بروز کا ہے" (خزائن اسرار الكلم مقدمہ فی شرح فصوص الحکم صفحہ ۴۷ مصنفہ شاہ محمد مبارک علی صاحب حیدر آبادی ) ۴۔گیارھویں صدی ہجری کے مجدد امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی سرہندی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔کمل تابعان انبیاء علیهم الصلوۃ والتسلیمات بجهت کمال متابعت و فرط محبت بلکه محض عنایت و موهبت جمع کمالات انبیاء متبوعه خود را جذب می نمایند و بلیت برنگ