راہ ھدیٰ — Page 147
۴۷ " قرآن کریم کی کسی آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں یہ مضمون بھی نہیں کہ اللہ تعالٰی کے لے " کن فیکون " کی طاقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہو۔لیکن مرزا غلام احمد کے بارے میں قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے "کن نیکون " کے اختیارات ان کو عطا فرمائے ہیں چنانچہ مرزا صاحب کا الہام ہے :- انما امرک اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون ( تذکره صفحه ۵۲۵) (صفحہ ۳۱) اے مرزا ! تیری شان یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو تو اس سے کہہ دے کہ ہو جا پس وہ ہو جائے گی " معزز قارئین۔لدھیانوی صاحب نے مرزا صاحب کا الہام تو صحیح درج کیا ہے لیکن ترجمہ کرتے وقت اپنی دیانت داری کا جنازہ نکال دیا ہے لدھیانوی صاحب یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اس الہام میں خدا تعالٰی مرزا صاحب کے وجود میں کن فیکون کی طاقت تسلیم کرتا ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔چنانچہ مرزا صاحب نے جہاں جہاں بھی اس الہام کو درج کیا ہے کہیں بھی وہ ترجمہ نہیں کیا جو لدھیانوی صاحب نے پبلک کو دھوکہ دینے کے لئے کیا ہے یہ الہام بے شک خدا کا کلام ہے لیکن مرزا صاحب کی زبان سے ادا کیا گیا ہے اور اس میں مخاطب اللہ تعالٰی ہے اور مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کن فیکون کی طاقت پائی جاتی ہے چنانچہ یہ اسلوب بیان بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ سورۃ فاتحہ کی آیت اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں ہے اس کا بھی ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالٰی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ اے رسول ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں بلکہ اس آیت میں مخاطب اللہ تعالیٰ ہے اور بندوں کی زبان سے یہ کہا گیا ہے کہ اے خدا ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ایک اور جگہ فرمایا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْدِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاء او لا شكورا (الدھر آیت نمبر ۱۰) یہاں پر بھی لفظ میقولون محذوف ہے اور مراد یہ ہے کہ خدا کے نیک بندے کہتے ہیں کہ اے خدا کے بندو ! ہم تم کو صرف اللہ کی رضا کے لئے کھانا کھلاتے ہیں نہ ہم تم سے کوئی جزا طلب کرتے ہیں نہ تمہارا شکر چاہتے ہیں۔به نقل بمطابق اصل ہے یہاں لفظ ” نے " چاہئے۔