راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 144 of 198

راہ ھدیٰ — Page 144

علیہ وسلم کی کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو " تو میرے بیٹے جیسا کہا ہو لیکن مرزا صاحب کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا ان سے فرماتا ہے کہ " انت منی بمنزلة ولدى - انت منی بمنزلة اولادی" یعنی تو مجھ سے بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے تو مجھ سے بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔" (صفحه (۳۱) " بمنزلة ولدى " اور " ولدی" میں زمین و آسمان کا فرق ہے خدا کا تو کوئی بیٹا نہیں لیکن اگر خدا یہ کہے کہ میں بیٹوں کی طرح پیار کرتا ہوں تو یہ کوئی نیا محاورہ نہیں بائبل ایسے محاوروں سے بھری پڑی ہے بلکہ بائبل میں تو سارے بنی اسرائیل کو خدا کے بیٹے قرار دیا گیا ہے۔کیا جناب مولوی صاحب اس کا یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے واقعی خدا کے بیٹے ہوا کرتے تھے اور نزول قرآن کے بعد یہ سلسلہ بند ہوا ہے۔قرآن کریم تو فرماتا ہے لَم يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ کہ خدا کے پہلے کبھی بھی بیٹے نہیں تھے نہ اس نے کبھی کسی کو جنانہ خود جنا گیا حضرت مرزا صاحب اور جماعت احمدیہ کا یہی عقیدہ ہے اور یہی تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔الہی صحیفوں سے یہ بات ثابت ہے کہ خدا کا کسی کو پیار کے اظہار کے طور پر بیٹا کہہ دینا ہمیشہ ان معنوں میں ہوتا ہے کہ جس طرح تم لوگ بیٹوں سے پیار کرتے ہو اس سے بڑھ کر میں پیار کرتا ہوں۔رہا یہ سوال کہ قرآن کریم میں ایسی کوئی آیت مولوی صاحب کو نظر نہیں آتی تو نجانے یہ کس نظر سے قرآن پڑھتے ہیں دیکھئے قرآن کریم میں صاف لکھا ہے یاد کرو۔(بقره آیت نمبر ( ۲۰ ) فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكُرِكُمْ آبَاءَ كُم أَو أَمَدَّ ذِكُراً ترجمہ : اپنے باپ دادوں کو یاد کرنے کی طرح اللہ کو یاد کرو اگر ہو سکے تو اس سے بھی زیادہ نجانے مولوی صاحب اس آیت کا کیا مطلب سمجھتے ہیں ظاہر پرست مولوی کا تو عرفان کے ان کو چوں سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا۔یہ کسے گستاخ قرار دیتے ہیں اور کس کی گستاخی کا مضمون ان کے ذہن میں ابھرتا ہے۔امت محمدیہ کے عظیم عارف باللہ بزرگ ان مضامین کو خوب سمجھتے تھے اور ان پر بارہا