راہ ھدیٰ — Page 126
۱۲۶ بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی تھی اور یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں چاند کا گرہن ہوا تھا۔اور یہی بات حضرت مرزا صاحب نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے اظہار کے لئے بیان کی ہے اور چاند اور سورج کے گرہن کو آج تک کسی احمدی عالم نے حضرت مرزا صاحب کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت کے طور پر پیش نہیں کیا لیکن یہ مولوی اتنے جاہل ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی جو ایک مسلمہ حقیقت چلی آرہی ہے اور گذشتہ چودہ سو سال میں دین کے مفکرتین نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو صرف ایک چاند ہی کو گرہن لگا تھا اور مہدی کے لئے چاند اور سورج دو کو کیوں گرہن لگے گا۔اور نہ ہی کسی نے اس وجہ سے مہدی کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت کا سوچا ہے لیکن ان مولوی صاحب کے ذہن میں فتنہ کو ندا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی تائید میں یہ نشان پیش کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی فضیلت کا اعلان کیا ہے۔یہ مولوی صاحب کی نیت کی کبھی نہیں تو اور کیا ہے یہ حملہ تو بظاہر حضرت مرزا صاحب پر کرتے ہیں لیکن عملاً ان باتوں پر کرتے ہیں جو حضرت مرزا صاحب کی تخلیق نہیں بلکہ وہ مسائل دینیہ ہیں جن کی سند محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔اگرچہ کثرت کے ساتھ علماء نے چاند سورج گرہن کی پیشگوئی والی حدیث کو قبول کیا ہے اور ہند و پاکستان میں حضرت مرزا صاحب سے پہلے اس کا خوب چرچا تھا کہ امام مہدی کے ظہور کے وقت چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔لیکن اب مرزا صاحب کے دعوئی کے بعد یہ اسے امام باقر کا قول قرار دینے لگے ہیں تاکہ مرزا صاحب سے کسی نہ کسی طریق پر چھٹکارا مل جائے جن کے زمانہ میں ۱۸۹۴ء میں معینہ تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن لگا۔لیکن یہ الگ بحث ہے۔یہاں زیر نظر محض یہ بحث ہے کہ چاند اور سورج دو کا گرہن ہونا حضرت مرزا صاحب کی ایجاد نہیں کہ ان پر الزام دو کہ مرزا صاحب نے اپنی فضیلت کی خاطر ایک کی بجائے دو گرہن بنالئے ہیں۔اسے اگر حدیث نبوی نہ بھی مانیں تو یہ امام باقر کی پیشگوئی ثابت ہے جو سینکڑوں سال قبل گذرے ہیں۔کروڑ ہا شیعہ انہیں امام مانتے ہیں۔ان کی طرز روایت یہ نہ تھی کہ سلسلہ