راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 176 of 198

راہ ھدیٰ — Page 176

لیکن لدھیانوی صاحب نہایت بے حیائی کے ساتھ ایسا دعوی کر رہے ہیں۔حالانکہ بات صرف اتنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کی بیوی کو صفاتی طور پر حضرت خدیجہ سے مشابہ قرار دیتے ہوئے انہیں خدیجہ قرار دیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جس طرح حضرت خدیجہ خدا کے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مومن اور نیک بیوی تھیں اسی طرح مسیح موعود کی بیوی بھی مومن اور نیک ہے۔حضرت نوح یا لوظ کی بیویوں کی مانند اپنے خاوند کی نبوت کی منکر نہیں۔جس طرح بزرگوں کے نام تبرک کے طور پر دوسروں کو دیئے جاتے ہیں اور کثرت سے امت میں رواج ہے کہ عائشہ اور خدیجہ وغیرہ نام رکھے جاتے ہیں اور بندے اس نیک نیت کے ساتھ بزرگوں کے نام رکھ سکتے ہیں اور کسی خبیث کو اشتعال نہیں آتا۔ورنہ کوئی اس بات کو پکڑ کر بیٹھ جائے اور لدھیانوی صاحب کو کہے کہ اپنا منہ دیکھو ، اپنے کرتوت دیکھو ! تمہیں جرات کیسے ہوئی کہ اپنا نام محمد اور یوسف رکھ لیا۔تو مولوی صاحب کیا جواب دیں گے۔پس الهانا بھی کسی بزرگ کا نام دے دینا محض تیریک کے طور پر ہوتا ہے جس سے نہ ہمسری مراد ہوتی ہے نہ مرتبہ میں برابری بلکہ یہ اشارہ ہوتا ہے کہ تم بھی انہیں صفات کے مشابہ بننے کی کوشش کرو۔لیکن ہرگز یہاں مرتبہ کی برابری مراد نہیں ہوتی۔ویسے بھی جناب لدھیانوی صاحب نے جس قدر بد زبانی کی ہے اسکی ضرورت ہی کوئی نہیں تھی کیونکہ حضرت خدیجہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ مطہرہ تھیں جو آج سے چودہ سو سال سے بھی زائد عرصہ پہلے وفات پا چکی ہیں ان کے نام کا تبریکا کسی مسلمان خاتون پر اطلاق پانا تو احمدی عقیدوں کی رو سے کسی صورت ناممکن نہیں۔یہاں لدھیانوی عقیدوں کی رو سے ضرور ایسے خبیثانہ خیال پیدا ہو سکتے ہیں کہ چودہ سو سال تو در کنار دو ہزار سال پہلے کا نبی زندہ موجود ہے بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ مر بھی چکا ہو تو بعینہ اسی طرح کی زندگی پا کر دوبارہ اس دنیا میں آجائے گا۔دیکھئے کوئی انسان بد بختی سے اگر ایک ٹھوکر کھا جائے تو اس کے مقدر میں اور کتنی ٹھوکریں لکھی جاتی ہیں۔قارئین کرام ! قرآن کریم کی سورۂ تحریم کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ نے صفاتی مشابہت کی