راہ ھدیٰ — Page 140
عہد تھا۔جیسا کہ ابن جریر و ابن ابی حاتم و غیرہ نے حضرت قمارہ سے روایت کیا ہے۔" ( تفسیر معارف القرآن از مفتی محمد شفیع جلد ہفتم صفحه ۹۰ زیر عنوان میثاق انبیاء ادارة المعارف کراچی) لدھیانوی صاحب کے ان دونوں بزرگوں کے دو اقتباسات ہم درج کر چکے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ہی اس امر کے قائل ہیں کہ سورۃ احزاب کی اس آیت میں تمام انبیاء اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس میثاق لینے کا ذکر ہے وہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سمیت انبیاء سے یہ اقرار لیا گیا تھا کہ تمہارے بعد جو نبی آئے اس پر ایمان لانا اور اس کی نبوت کی تصدیق کرنا۔یہی مضمون جو لدھیانوی صاحب کے بزرگوں نے بیان کیا ہے الفضل کے اقتباسات میں درج ہے جس پر لدھیانوی صاحب ناراض ہو رہے ہیں۔سطور بالا میں علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی دیوبندی کا جو اقتباس درج کیا گیا ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ سورۃ احزاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمیت انبیاء سے جو میثاق لیا گیا ہے وہ سورۃ آل عمران میں مذکور ہے۔قارئین کرام ! آئیے اب ہم سورۃ آل عمران میں اس میثاق کی تفصیل پڑھیں۔وہاں لکھا ہے:۔وَإِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا أَتَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ وَ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِقَ لمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنَنَّ بِهِ، وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا اقْرَرُنَا ( سورة آل عمران : ۸۲ ) ترجمہ : جب اللہ تعالٰی نے نبیوں سے یہ پختہ عہد لیا کہ میں نے جو تم کو کتاب اور حکمت دی ہے پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو تمہارے پاس والی کتاب کی تصدیق کرے تو تم اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔فرمایا کیا تم نے اس عہد کا اقرار کر لیا ہے اور میرے اس عہد کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔تو انبیاء بولے کہ ہاں ہم نے اقرار کر لیا معزز قارئین ! سورۃ آل عمران کی اس آیت میں میثاق انسین کے الفاظ آتے ہیں اور سورۃ احزاب کی آیت " وَ إِذْ اَخَذْنَا مِنَ البينَ مِنَا لَهُمُ وَمِنكَ " میں بھی نبیوں کے لئے