راہ ھدیٰ — Page 129
۱۲۹ اس چشمه روان که مخلق خداد هم یک قطره ز بحر کمال محمد است آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عرفان کو ایک سمندر قرار دیتے ہیں اور اپنے جاری شدہ چشمہ کو اس سمندر کا محض ایک قطرہ قرار دیتے ہیں۔معلوم نہیں مولوی صاحب کیوں مرزا صاحب کے ایسے اعترافات کو چھپاتے ہیں جن سے اصل حقیقت حال روشن ہوتی ہے۔دوسری چالاکی مولوی صاحب کی یہ ہے کہ معجزے کے مقابل کے نشانات کے لفظ کو اس طرح بیان کیا جیسے ایک ہی بات ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ایک معجزہ لکھوکھا بلکہ ان گنت نشانات مشتمل ہو سکتا ہے چنانچہ دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں کی حقیقت - اور معجزات صرف تعداد کے لحاظ سے نہیں جانچے جاتے بلکہ اپنی کیفیت اور کمیت کی بنا پر جانچے جاتے ہیں مثلاً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ہزار معجزات ہیں۔ایک معجزہ قرآن ہے جو فی ذاتہ ایک ہونے کے باوجود ہزاروں آیات پر مشتمل ہے یعنی نشانات ہی نہیں بلکہ ایسی ہزارہا آیات ہیں جو ان گنت مزید نشانات پر مشتمل ہیں اور ایسا عجیب اعجاز ہے کہ خود قرآن کی زبان میں آیت لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادَ الكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا ( کف آیت نمبر ۷۰) کی صورت میں پیش ہے۔پس قرآن کے معارف اور قرآن کے نشانات لا محدود اور ان گنت ہیں اور یہ ایک معجزہ ہے جو تمام انبیاء کے معجزات پر حاوی اور ان سے بڑا ہے۔پس مرزا صاحب نے جہاں اپنے نشان بیان فرمائے ہیں وہاں نہ مرزا صاحب کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے موازنہ تھا نہ ایسا تصور کیا جا سکتا ہے۔مثلاً مرزا صاحب ان نشانات میں ان متبعین کو بھی شامل رکھتے ہیں جنہوں نے خدا سے روشنی پا کر آپ کو قبول کیا اور کچی رویا و کشوف دیکھے۔ایسے نشانات کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر رکھنے کا تصور کوئی بہت ہی ٹیڑھی سوچ والا مولوی ہی کر سکتا ہے ورنہ ایک حقیقت پسند انسان ہرگز اس کو محل اعتراض نہیں سمجھے گا۔پس اگر ایسے نشانات کی گنتی کو شامل کرنا ہے تو حضرت مرزا صاحب کے نزدیک آغاز ا ترجمہ : اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لکھنے کے لئے روشنائی بن جاتا تو میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ہر ایک سمندر کا پانی ختم ہو جاتا گو اسے زیادہ کرنے کے لئے ہم اتنا ہی اور پانی سمندر میں لا ڈالتے