راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 4 of 198

راہ ھدیٰ — Page 4

معزز قارئین ! فتوی ہمیشہ کسی کی زبان کے اقرار پر لگایا جاتا ہے نہ کہ اس کے دل کی حالت پر کیونکہ دلوں کے حالات صرف خدا جانتا ہے۔کوئی انسان نہیں جانتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالی کسی انسان کو بذریعہ وحی خبر دے دے کہ فلاں کے دل میں کچھ اور ہے اور زبان پر کچھ اور۔مگر لدھیانوی صاحب نے اس رسالہ میں کہیں بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ اللہ تعالٰی نے بذریعہ وحی انہیں خبر دی ہے کہ احمدی دل سے ان باتوں کے قائل نہیں ہیں۔ایک جنگ کے موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت اسامہ بن زید نے ایک کافر پر تلوار اٹھائی اس نے بلند آواز سے کہا لا الہ الا اللہ - حضرت اسامہ نے اس شخص کو اس لئے قتل کر دیا کہ ان کے خیال میں یہ کلمہ توحید کا اعلان دل سے نہیں کر رہا تھا بلکہ محض جان بچانے کے لئے ایسا کر رہا تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور حضرت اسامہ کو مخاطب کر کے بار بار فرمایا أَفَلا نَفتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقالَهَا امْ لَا - "1 ( صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر بعد قولہ لا الہ الا اللہ ) کہ اے اسامہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ دل سے کلمہ پڑھ رہا ہے یا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے واضح ہے کہ کسی شخص کو کسی کے بارے میں یہ کہنے کا حق حاصل نہیں کہ وہ محض زبان سے اس بات کا قائل ہے۔دل سے اس بات کا قائل نہیں۔اور جو شخص ایسا کرے وہ خواہ کتنا ہی پیارا صحابی کیوں نہ ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اس پر شدید ناراض ہوتے ہیں۔چنانچہ حضرت اسامہ بیان کرتے ہیں کہ اس طرح شدید ناراضگی کے عالم میں مجھے مخاطب کر کے یہ فقرہ اتنی بار دہرایا کہ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا اور اس طرح مجھے آپ کی ناراضگی نہ دیکھنی پڑتی۔اور اس واقعہ کے بعد میں اسلام قبول کرتا۔لدھیانوی صاحب اور ان کے ہمنوا اس واقعہ سے سبق حاصل کریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب کو نہ بھڑکائیں۔