راہ ھدیٰ — Page 56
۵۶ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں اور نہ ہی یہ لکھا ہے کہ آیت " سُبْعَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ خود مرزا صاحب کے بارے میں ہے۔اس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ قرآنی آیات کا کسی امتی پر نازل ہو جانا کیا معنے رکھتا ہے۔کیونکہ مرزا صاحب نے اشارہ یا کنا۔تہ کہیں بھی نہیں فرمایا کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح دیسے ہی اسراء اور معراج ہوا تھا۔جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا تھا۔پس قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ قرآنی آیات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نازل ہوئیں اگر کسی اور کے حق میں نازل ہوں۔تو وہ ہرگز اپنے مقام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے برابر قرار نہیں دیتا۔نہ ہی وہ اپنے تئیں خود کو اس کا اصل سمجھتا ہے بلکہ تکبر کی بجائے انکسار میں بڑھتا ہے۔یہی حال حضرت مرزا صاحب سے پہلے امتیوں کا تھا۔جن کو وہ آیات الہام ہوئیں جن کے مخاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔پس یہ الہام معاملہ کی نوعیت کو واضح اور ہر قسم کے اعتراض کو باطل کرنے والا ہے۔مولوی صاحب ایک کے بعد دوسرا اعتراض کرتے جا رہے ہیں اور محض اپنی کم ظرفی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ایک ہی قسم کے چند بے بنیاد اعتراضات ہیں جو ایک ہی شق کے تحت آنے چاہئیں تھے۔مگر ان کو نمبر بڑھانے کی فکر پڑی ہوئی ہے۔اس نوع کے تفصیلی شافی و کافی جواب ہم فصل سوم کے عقیدہ نمبرا کے جواب میں دے چکے ہیں۔عقیدہ نمبر؟ " - اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے دو باتیں بیان کی ہیں۔ایک یہ کہ تمام مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج جسمانی کے قائل ہیں۔لیکن مرزا صاحب معراج جسمانی کے قائل نہیں بلکہ معراج روحانی کے قائل ہیں۔اور کہتے ہیں کہ معراج نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔دوم - مرزا صاحب کہتے ہیں کہ اس قسم کے کشوف مجھے بھی ہوتے ہیں۔گویا مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خصوصیت کے بھی اپنے وجود میں پائے جانے کا اقرار کرتے ہیں۔کیا معراج جسمانی تھا ؟ اس سے تو ہمیں انکار نہیں کہ گذشتہ صدیوں میں علماء کی ایک کثیر تعداد نظر آتی ہے جو