راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 43 of 198

راہ ھدیٰ — Page 43

۴۳ ہی ایسی آیات کا نازل ہونا محل اعتراض ہے جو خاص حضرت محمد رسول اللہ کے حق میں نازل ہوتی ہیں یا آپ کو مخاطب کر کے نازل فرمائی گئی ہیں۔اصل سوال ہمیشہ یہی رہے گا کہ جس شخص کے دل پر ایسی آیات قرآنیہ الہام ہوئی ہوں وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے خود اپنی نظر میں اپنا کیا مقام سمجھتا ہے اور کیا مرتبہ تصور کرتا ہے۔اگر وہ یہ اعلان کرے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ثانی بن کر پیدا ہوا ہوں (نعوذ باللہ ) اور پرانے محمد رسول اللہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔اور اب نیا محمد دنیا میں پیدا ہو چکا ہے۔تو اس کا یہ اعلان کفر صریح پر مشتمل ہو گا۔لیکن ایسے الہامات کے باوجود اگر ایسا شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر بے انتہاء انکسار اور خاکساری سے کام لیتا رہے۔اور کامل یقین رکھتا ہو اور اسی کا برملا اظہار کرتا ہو کہ جو فیض بھی اس کو عطا ہوا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے عطا ہوا ہے۔اور آپ کی محبت کے نتیجہ میں خدا اس پر مہربان ہے۔اور قیامت تک کوئی شخص پاک محمد مصطفیٰ کے ویلے کے بغیر کوئی فیض کسی سے پا نہیں سکتا اور امت محمدیہ میں جو بکثرت فیض رساں وجود نظر آتے ہیں۔وہ اپنا نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض بانٹنے والے ہیں۔جو خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یاب ہیں۔تو ایسے شخص پر اگر لدھیانوی صاحب کی اوقات کا انسان بڑھ چڑھ کر گند ہوئے اور لعنتیں ڈالے تو سوائے اس کے کہ وہ خود اپنی عاقبت برباد کر رہا ہو گا۔ہم اور کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں۔اللہ کرے کہ ان کے ہاتھوں سے عاقبت کی بربادی ان کے اپنے تک ہی محدود رہے اور دوسرے بندگان خدا اس سے محفوظ رہیں۔دیکھئے حضرت مرزا صاحب کے جس الہام پر اعتراض کرتے ہوئے لدھیانوی صاحب اپنی دانست میں یہ ثابت کر رہے ہیں کہ گویا مرزا صاحب نے (نعوذ باللہ ) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ثانی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور جس کے بعد ہر فیضان محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے انہوں نے اپنی ذات سے جاری کرنے کا دعوی کر دیا ہے۔وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر اپنی حیثیت کریا بیان کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں :-