راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 42 of 198

راہ ھدیٰ — Page 42

۴۲ الغفلنا قلبه عن ذكرنا واتبع هواه و كان امره فرطا - " ولسوف يعطیک ریک فترضی - الم نشرح لك صدرک ( ایضا صفحہ ۳۶) ايضا ( صفحہ ۳۷) ( ایضاً صفحه ۳۷) اسی وجہ سے اس وقت کے مولویوں نے شدید طوفان برپا کیا تھا۔مثلاً مولوی غلام علی قصوری نے سخت مخالفت کی۔لیکن حضرت مولوی عبداللہ غزنوی کے صاحبزادے نے بڑے متوازن اور سلجھے ہوئے انداز سے حسب ذیل الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی کہ : "اگر الہام میں اس آیت کا القاء ہو جس میں خاص آنحضرت کو خطاب ہو تو صاحب الہام اپنے حق میں خیال کر کے اس کے مضمون کو اپنے حال کے مطابق کرے گا۔اور نصیحت پکڑے گا۔۔۔۔۔۔ا۔اگر کوئی شخص ایک آیت کو جو پروردگار نے جناب رسول اللہ صلعم کے حق میں نازل فرمائی ہے۔اسے اپنے پر وارد کرے اور اس کے امرونسی اور تاکید و ترغیب کو بطور اعتبار اپنے لئے مجھے تو بے شک وہ شخص صاحب بصیرت اور مستحق تحسین ہو گا۔اگر کسی پر ان آیات کا القاء ہو جن میں خاص آنحضرت کو خطاب ہے مثلاً ” الم نشرح لك صدرک“ کیا نہیں کھولا ہم نے واسطے تیرے سینہ تیرا۔ولسوف يعطیک ربک فترضی- فسیکفیکهم الله - فاصبر كما صبر اولوا العزم من الرسل - واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداوة والعشى يريدون و جهه - فصل لربک و انحر - ولا تطع من الغفلنا قلبه عن ذكرنا واتبع هواه و وجدک ضالا فهدی تو بطریق اعتبار یہ مطلب نکالا جائے گا کہ انشراح صدر اور رضا اور انعام ہدایت جس لائق یہ ہے علی حسب المنولت اس شخص کو نصیب ہو گا اور اس امر و نہی وغیرہ میں اس کو آنحضرت کے حال میں شریک سمجھا جائے گا۔" اثبات الالهام و البته صفحه ۳۳۴۷۲) نہ کورہ بالا یہ تمام حوالہ جات صاف بتا رہے ہیں کہ نہ تو قرآن کریم کی آیات کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں میں سے کسی پر نازل ہونا تعجب یا اعتراض کا موجب ہے نہ