راہ عمل

by Other Authors

Page 82 of 89

راہ عمل — Page 82

A دعوت الی اللہ کا نشہ : یہ کام ہی ایسا ہے جس طرح دنیا والے نشہ کرتے ہیں تو نشہ ان کو سنبھال لیتا ہے اسی طرح دعوت الی اللہ کا کام ایسا ہے جو نشے سے بڑھ کر طاقت رکھتا ہے اور داعیان کو سنبھال لیتا ہے۔داعی الی اللہ بنا رہتا ہے اس کو کسی اور کام میں دلچسپی ہی نہیں رہتی۔بعض داعی الی اللہ دعوت الی اللہ میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ اپنے گھر کے حالات بھول جاتے ہیں۔اپنے خاندان کو بھول جاتے ہیں۔دن رات ایک کام کی لگن ہو جاتی ہے۔(حضرت مسیح موعود کے ایک رفیق برادرم عبد العزیز صاحب مغل آف لاہور کی مثال ہے گھر سے سبزی لینے نکلتے اور دعوت الی اللہ میں ایسے مشغول ہوتے کہ رات کو گھر واپس آتے ) داعی الی اللہ کی راہنمائی خود خدا تعالٰی کرتا ہے: ایک داعی الی اللہ اگر خالعہ اللہ تعالی کی محبت میں کام شروع کرتا ہے اس پر توکل کر کے کام شروع کرتا ہے تو بسا اوقات خدا اس کی ایسی ایسی حیرت انگیز راہنمائی فرماتا ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں ہو تا کہ کس طرح یہ دلیل اس کے ذہن میں آئی اور کس طرح خدا تعالٰی نے اس عظیم الشان غلبہ عطا کیا۔۔۔اس لیے علم کی کمی کا بہانہ لے کر میدان سے نہ بھاگیں۔جو کچھ آپ کے پاس ہے خدا کے سپرد کر دیں۔پھر دیکھیں خدا اپنا حصہ کتنا ڈالتا ہے۔یہ بات میں وسیع تجربے کے بعد کر رہا ہوں۔جو احمدی بھی لاعلمی کے باوجود دعوت الی اللہ کے میدان میں کودتے ہیں۔ہر قسم کے دشمن سے واسطہ کے باوجود کبھی بھی خفت محسوس نہیں کرتے کبھی بھی خدا ان کو ذلیل نہیں ہونے دیتا۔داعی الی اللہ کے اوصاف : ایک عام آدمی جس کو ایک زبان بھی نہیں آتی اور اس کو زیادہ دینی علم بھی نہیں ہے اس کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرما دی۔اس لیے کہ اس کا جذبہ خلوص سچا تھا۔اس لئے کہ اس کے دل کی بے قرار تمنا تھی اس لیے کہ وہ دعا کرتا تھا اور پھر ایک خوبی جو داعی الی اللہ میں ہونا ضروری ہے وہ اس میں موجود تھی کہ زبان کا میٹھا تھا۔سارا علم بے کار ہو جاتا ہے اگر ایک انسان مشتعل مزاج ہو۔اگر مغلوب الغضب ہو تو وہ دنیا کے کسی کام کا بھی نہیں رہتا۔خصوصا اس وقت جب غیر سے مقابلہ ہو اس وقت تو بہت ہی متحمل ہونا چاہئے۔اپنے جذبات پر کنٹرول ہونا اور حوصلے سے