راہ عمل — Page 81
٨٣ وقت ان کے پاس وقت ہوتا ہے اس وقت وہ نیک باتوں کو سننے اور ان پر عمل کرنے کا خاص مزاج رکھتے ہیں۔پھر ہسپتالوں میں بیمار لوگ ہیں۔غریب لوگ ہیں۔جن کو رشتے داریوں کی کمی کی وجہ سے یا بوڑھا ہونے کی وجہ سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔کئی مسافر ایکسیڈنٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔غرضیکہ ہر طرف ایسے طبقے پھیلے پڑے ہیں جن کو نئی زندگی دینے کا کام آپ کے سپرد ہے اور ہر طبقہ کو ملحوظ رکھ کر اس کام کو آگے بڑھانا ہو گا۔ذیلی تنظیموں اور جماعتی عہدے داروں کی ذمہ داری : سب سے اہم ذمہ داری کسی ملک کے امیر کی ہے اور اس ملک کے مربی کی ہے اور اس ملک کی مجلس عاملہ کی من حیث المجموع ذمہ داری ہے اور متعلقہ عہدے داران کی زمہ داری ہے اسی طرح خدام اور انصار میں اگر سارے اپنی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر حکمت کے ساتھ مسلسل آگے بڑھیں گے اور جو نصیحت کی جاتی ہے اور اس کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کریں گے تو دیکھتے ہی دیکھتے جماعتوں کی کایا پلٹ جائے گی۔بعض دفعہ سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں ہاں خلیفہ وقت نے کہہ دیا ہے ٹھیک ہے تھوڑی دیر کے بعد یہ بھی بھول جائے گا ہم بھی بھول جائیں گے۔میں تو انشاء اللہ نہیں بھولوں گا۔کیونکہ مجھے تو خدا یاد کروا دیتا ہے۔آپ بھولیں گے تو جرم کریں گے۔میری تو دن رات کی یہ تمنا ہے دن رات دل میں ایک آگ لگی ہوئی ہے میں کیسے بھول سکتا ہوں۔اس لئے اللہ مجھے یاد کرواتا رہے گا۔اور میں یاد رکھوں گا اور آپ کو بھی یاد کرواتا رہوں گا۔لیکن اگر آپ نے غفلت کی وجہ سے اس بات کو بھلا دیا تو یاد رکھیں کہ آپ خدا کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔اس لیے نہ خود بھولیں اور نہ دوسروں کو بھولنے دیں۔آج جماعت کی سب سے بڑی اور سب سے اہم ذمہ داری خدا کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہے اور اس میں ہم پہلے ہی پیچھے رہ گئے ہیں۔ضائع کرنے کا کونسا وقت رہ گیا ہے۔ہر شخص کو تربیت دیں پیار اور محبت سے سمجھا کر آگے بڑھائیں۔اور جو ایک دفعہ اس میدان کا سوار بن جائے گا پھر آپ کو دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔