راہ عمل — Page 62
۶۳ دوسروں کے لئے بے انتہاء رحمت بننا پڑے گا۔وہاں طرز کلام بھی نہایت حکیمانہ اختیار کرنا پڑے گا اور یہ سوچ کر بات کرنی ہوگی کہ عام باتوں سے وہ دوست بہر حال بدلیں گے ان سے ملائمت کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے۔- انسانی مزاج کو سمجھ کر : حکمتوں کے تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ ہے کہ انسانی مزاج کو سمجھ کر بات کی جائے اور اس طریق کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئیے۔۔۔اس کے مزاج کو پوری طرح پڑھ سکیں اور یہ جان سکیں کہ اس کے رجحانات کیا ہیں کن باتوں سے کتراتا ہے پھر اس کے مطابق اس سے معاملہ کریں۔اپنی استعدادوں کے مطابق : پھر حکمت کا ایک اور تقاضا یہ بھی ہے کہ اپنے مزاج اور اپنے رجحان کا بھی جائزہ لیں ہر انسان ہر قسم کی تبلیغ نہیں کر سکتا اللہ تعالٰی نے ہر ایک کو اپنے اپنے رنگ میں استعدادیں عطا فرمائی ہیں ایک بزرگ ( چولے پر آگے پیچھے قرآنی آیات لکھوا کر پھرا کرتے تھے قریشی محمد حنیف صاحب سائیکل پر تبلیغ کرتے تھے ) یہ کہنا کہ کسی شخص میں دعوت الی اللہ کی استطاعت نہیں ہے یہ اللہ تعالی پر الزام ہے اور یہ کہنا بھی درست ہے کہ ہر شخص کی استطاعت چونکہ مختلف ہے اس لئے مقابل کے انسان سے مقابلہ بھی الگ الگ کرنا پڑے گا۔۔۔ہر شخص کی ایک انفرادیت ہے اس کے مطابق اس سے بات کرنی ہو گی اور آپ کے بھی مزاج الگ الگ ہیں۔خدا نے آپ کی استعدادیں الگ الگ بنائی ہیں۔ان کو مد نظر رکھ کر اپنے لئے ایک صحیح رستہ تجویز کرنا ہو گا کہ میں کیا ہوں اور میں کس طرح اس فریضہ کو بہترین رنگ میں ادا کر سکتا ہوں۔بعض لوگوں کو بولنا نہیں آتا بعض لوگوں کو لکھنا نہیں آتا۔بعض لوگ پیلنک میں لوگوں سے شرماتے ہیں۔لیکن علیحدہ علیحدہ چھوٹی مجالس میں بہت اچھا کلام کرتے ہیں بعض لوگ عوامی مجلسوں میں بڑا کھلا خطاب کر لیتے ہیں پس خدا نے جو مزاج بنایا ہے اگر کوئی اس مزاج سے ہٹ کر بات کرے گا تو اس سے جگ ہنسائی ہوگی۔-۵- حالات حاضرہ کے مطابق : پھر وقت الگ الگ ہوتے ہیں اور زمانے الگ الگ ہوتے ہیں وقت کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں۔حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ ان اوقات سے بھی استفادہ کیا جائے اس لیے مختلف وقتوں میں مختلف قسم کی باتیں