راہ عمل

by Other Authors

Page 55 of 89

راہ عمل — Page 55

۵۶ درمیان ہر وقت ایک مقابلہ جاری ہے۔۔۔۔چونکہ جہاد کا مضمون چل رہا ہے۔۔۔۔چنانچہ ما بعد صرف جہاد کی طرف اقدام لوٹتا ہے فرماتا ہے ادفع بالتي هی احسن اب تمہارا مقابلہ ہو گا جب تم دنیا کو نیک کاموں کی طرف بلاؤ گے تو تمہارا مقابلہ شروع ہو گا یاد رکھو یہ مقابلہ تمہارے لئے بہتر ہے۔تم جب تک جہاد میں مصروف رہو گے تمہارا حسن بھی بڑھتا چلا جائے گا اور مقابل پر بدیاں گھٹتی چلی جائیں گی۔جب تم جہاد سے غافل ہو جاؤ گے تو تمہاری اندرونی حالت کی بھی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔کیونکہ کہ لا تستوی الحسنة ولا السيئة قرآن کریم میں اس سے پہلے داعی الی اللہ کے متعلق فرمایا کہ وہ بلاتا بھی ہے اور نیک عمل بھی کرتا ہے۔ادفع بالتی ھی احسن کا اطلاق بلانے کی طرف بھی ہو گا اور نیک اعمال کی طرف بھی گویا ان معنوں میں یہ بات بنے گی کہ اللہ تعالٰی ہمیں یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ تمہارا دوسروں کے ساتھ قول میں مقابلہ ہو تو احسن قول سامنے پیش کرو جب تمہارا اعمال میں مقابلہ ہو تو احسن عمل مقابل پر پیش کرو۔ا قول حسن : پس احسن قول میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر قسم کی گندہ دہنی گالی گلوچ اور ایذا رسانی کے مقابل پر اچھی بات کہنا سیکھو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے۔- مجادلہ کا طریق : جب دلائل کی جنگ شروع ہو تو پہلے کمزور دلائل نہ نکالا کردیا یونسی کوئی دلیل دینی نہ شروع کرد بلکہ ادلع بالتی ھی احسن کی رو سے تم اپنے رکش سے سب سے اچھا تیر نکالو - سب سے مضبوط دلیل نکالو۔یہ ہمت بڑی عقل کی بات ہے۔تربیتی کلاسز کے انعقاد کا طریق کار : پس احسن دلیل سے صرف یہ مراد نہیں کہ دلیل فی ذاتہ مضبوط ہو بلکہ اس کو پیش کرنے کا ڈھنگ بھی احسن ہو اور اس پر