راہ عمل — Page 53
۵۴ بیرونی ابتلاء پھر ایک بیرونی ابتلاء ان پر آتا ہے باہر کی دنیا کہتی ہے اچھا اگر تم اللہ ہی کو رب سمجھ رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ وہی تمہارے رزق کا انتظام کرتا ہے اور وہی تمہیں بچاتا ہے تو تمہاری اندرونی قربانی کافی نہیں ہم بھی کچھ حصہ ڈالیں گے یعنی کچھ تمہاری دوکانیں ہم لوٹیں گے کچھ تمہاری جائیدادیں ہم برباد کریں گے کچھ جائز وارثوں سے ہم تمہیں محروم کر دیں گے کچھ جائز ترقیات سے ہم تمہیں عاری کر دیں گے اور اس کے رستے میں رد کیس کھڑی کر دیں گے۔کچھ حصول تعلیم کے حق تم سے چھین لیں گے اور وہ تعلیم جو تمہارے رزق کا ذریعہ ہے۔ہم حتی المقدور کوشش کریں گے کہ تم اس تعلیم میں قوم۔۔۔۔۔۔آگے نہ بڑھا سکو جو ربنا اللہ کا دعوی کرتے ہیں تقدیر خداوندی کی طرف سے ان کے امتحان لئے جاتے ہیں ان پر ایسے اندرونی اور بیرونی اسلام آتے ہیں جو حد کر دیتے ہیں۔۔۔اس لئے ان کی راہ کا نام مستقیم رکھا گیا اور مستقیم راہ پر قائم رہنے کے لئے یہ دعا سکھائی گئی: اهدنا الصراط المستقیم بر صراط مستقیم دراصل استقامت کی تشریح ہے۔یا اط مستقیم کی تشریح ہے۔یہ دونوں ایک دوسرے پر روشنی ڈال رہے استقامت هر ہیں۔استقامت کے نمونے استقامت کے سلسلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں اور ساتھیوں نے جو عظیم الشان نمونے دکھائے تاریخ اسلام ان کے واقعات سے روشن ہے۔۔۔۔جماعت احمدیہ کو بھی ان درخشندہ مثالوں کی پیروی کی توفیق بخشی اور بخشتا چلا جا رہا ہے۔(حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف شہید کا واقعہ نعمت اللہ شہید کا واقعہ ) یہ ہیں وہ لوگ جن کے متعلق اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔ثم استقامو انتنزل عليهم الملائکہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے ربنا اللہ اللہ ہی ہمارا رب ہے (ایسے لوگوں سے لوگوں کے سلوک کے بر عکس ) میرا بھی ایک سلوک ہو گا اور وہ یہ کہ تتنزل عليهم !۔الملائکہ کثرت کے ساتھ ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور یہ کہتے ہوئے کہ الا تخافو او