راہ عمل — Page 48
۴۹ پھل لگا دے۔ایک دفعہ اگر ایمان والے کی ( دعوت الی اللہ ) کو پھل لگنے شروع ہو جائیں تو پھر ایسے درخت بے ثمر نہیں رہا کرتے کہ ہر موسم میں یہ پھل دیتے ہیں بلکہ وہ درخت۔جو خدا سے زیادہ گہرا تعلق قائم کر لیتے ہیں ان کے متعلق تو اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ پھر موسم ہو یا نہ ہو ہر حال میں ہمیشہ یہ درخت پھل دیتے چلے جاتے ہیں اللہ تعالٰی ہم میں سے ہر ایک کو ایسا ہی ہمیشہ پھیل دینے والا با ثمر درخت بنا دے " داعی الی اللہ کی شرائط قرض ہر وہ شخص جسے اللہ تعالٰی کی نظر میں ایک حسین ولی اللہ کا کردار ادا کرنا ہے اور ہر وہ شخص جو یہ چاہتا ہے کہ جب میں بلاؤں تو خدا تعالیٰ کے پیار کی نظریں مجھے پر پڑیں اور میرا قول حسین ہو جائے اس کے لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق یہ تین شرطیں لازم ہیں۔اول۔پہلی شرط یہ ہے کہ وہ بلائے اپنے رب کی طرف اپنی خواہشات کی طرف نہ بلائے ، اپنے ذاتی مقاصد کی طرف نہ بلائے اور خدا کے نام پر بلا کر پس پردہ کچھ اور مقاصد نہ رکھتا ہو خالصتا اللہ تعالٰی کے لئے بلانا ہو مثلاً جماعت احمد یہ دنیا کو خدا کی طرف بلا رہی ہے۔اگر کسی جگہ اس دعوت الی اللہ کا مقصد یہ ہے کہ ہماری تعداد بڑھ جائے اور ہم دنیا وی غلبہ حاصل کر لیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا نہیں رہے گا۔دوم۔اس کا عمل صالح اس بات کی تصدیق کرے کہ ہاں اپنے رب کی طرف بلا رہا ہے پس ایسے لوگ جو عمل صالح کے دعویدار ہوں اگر ان دونوں چیزوں میں سے اموال اور نفوس کی قربانی ) ایک کی بھی کمی آگئی تو ان کے عمل صالح میں نقص پڑ جائے گا اور اسی نسبت سے ان کی دعوت الی اللہ میں نقص پیدا ہو جائے گا۔سوم - مسلمانوں میں سے ہو کیونکہ اگر خدا کی طرف بلانے والا ہو اور بظاہر عمل صالح بھی رکھتا ہوں لیکن اگر وہ اسلام کی طرف دعوت نہیں دیتا اور خود کو مسلمانوں میں سے قرار نہیں دیتا تو یہ تیسری شرط باطل ہو جائے گی اور قول حسن کو بھی ساتھ ہی باطل