راہ عمل

by Other Authors

Page 40 of 89

راہ عمل — Page 40

کی خشیت کے نتیجہ میں بنی نوع کی ہمدردی میں گداز نہیں تو پھر ایسا شخص جو اس قسم کا دل رکھتا ہو حفیظ نہیں۔یعنی شریعت کی حفاظت کرنے والا نہیں۔کے حفیظ بنو کچے حفیظ بنو۔حالانکہ ہر مربی کا یہ دعوی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے (نہ اپنی کسی خوبی کے نتیجہ میں ) حفیظ ہوں۔میرے سپرد شریعت کی حفاظت ہے۔اور میں نے اپنی زندگی اس کام کے لئے وقف کر دی ہے لیکن اگر اس کا عمل ایسا نہیں اگر اس کے اندر ریاء پائی جاتی ہے اگر اس کے اندر کیر پایا جاتا ہے اگر اس کے اندر خدا تعالی کی مخلوق کی ہمدردی نہیں۔ان کے ساتھ پیار نہیں۔تعلق نہیں۔اگر ان کی جسمانی اور روحانی تکلیف دیکھ کر اس کا دل تڑپ نہیں اٹھتا اگر ایسے وقتوں میں اس کا دل گداز ہو کر اور خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اپنے لئے اور ان کے لئے عاجزانہ طور پر بخشش اور بھلائی اور خیر کا طالب نہیں تو کیا ایسا دل حفیظ ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ایسا دل تو حفیظ نہیں۔پس اے میرے مربی بھائیو دل کو گداز رکھو اس معنی میں جس معنی میں کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں (جن میں سے بعض کو میں نے ابھی پڑھا ہے ) حکم دیا گیا ہے۔جس دل میں رحمان خدا کی خشیت نہیں اور جس دل میں یہ خشیت ظاہر اور باطن میں نہیں۔وہ دل غیب نہیں۔وہ قلب سلیم نہیں اور جو دل غیب و سلیم نہیں تو جس مینہ میں وہ دھڑکتا ہے جن لوگوں میں وہ خون کا دوران کر رہا ہے وہ سینہ اور وہ دل اور وہ شخص اور اس کی قوت عمل محافظ شریعت نہیں۔وہ مربی نہیں۔وہ خادم نہیں۔وہ اپنے رب کا غلام نہیں۔عبد نہیں۔وہ اس کی صفات کا مظہر نہیں وہ تو خاکی جسم کا ایک لوتھڑا ہے۔جیسا کہ سور کے جسم کا ایک لوتھڑا۔یا کتے کے جسم کا ایک لوتھڑا ان کا دل ہوتا ہے۔پس اپنے سینہ میں انسان کا غیب دل پیدا کرنے کی کوشش کرو اور حفیظ بننے کی کوشش کرو اپنا دل خدا کے حضور ہر وقت گداز رکھو۔تمہاری روح اس کے خوف سے ، اس کی عظمت اور جلال کی خشیت سے پانی ہو کر اور پکھل کر اس کے حضور جھک جائے۔