راہ عمل

by Other Authors

Page 39 of 89

راہ عمل — Page 39

تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم دعوی کرتے ہو کہ ہماری اس شریعت کی حفاظت کا کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے۔اگر تمہارا یہ دعوئی ہے تو اس دعویٰ کا جو تقاضا ہے اسے پورا کرو اللہ تعالی فرماتا ہے هذا ما توعدون لكل او اب حفيظ من خشي الرحمن بالغيب و جك بقلب سليم - سوره ق۔(۳۴) یعنی میرا یہ وعدہ ہے کہ اس دنیا میں بھی جنت بعض لوگوں کے اس ۳۳ قدر قریب کر دی جائے گی کہ وہ اس دنیا کی حسوں کے ساتھ اسے محسوس کرنے لگیں گے ، يا اور میرا یہ وعدہ ان لوگوں کے لئے جو میرے حضور جھکتے ہیں ، اواب ہیں اور (حفیظ ) وہ صرف منہ کے دعوے سے شریعت کی حفاظت کرنے والے نہیں بلکہ وہ صحیح طور پر اور حقیقی معنی میں شریعت کی حفاظت کرتے ہیں۔جہاں تک ان کی زندگی کا تعلق ہے وہ شریعت پر عمل کر کے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے وہ معروف کا حکم دے کر اور منکر سے روکنے کے ساتھ شریعت کی حفاظت کرتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شریعت کی حفاظت وہی شخص کر سکتا ہے من خشی الرحمن با لغيب و جله بقلب سلیم جسے رحمان خدا اس کی کسی خوبی یا عمل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ محض بخشش اور عطا کے طور پر ایک گداز اور اللہ تعالی سے ڈرنے والا اور اس کی عظمت کو پہچاننے والا دل عطا کرتا ہے۔اور خشیت کا یہ دعویٰ محض ایسا دعوئی نہیں جو صرف لوگوں کے سامنے کیا جائے بلکہ من خشی الرحمن بالغیب جس طرح اجتماع میں لوگوں سے میل ملاقات اور معاشرہ کی ضروریات پورا کرتے وقت وہ اپنے دل کی خشیت کو اپنے عمل سے ظاہر کرتا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ تنہائی کی گھڑیوں میں اپنے رب ا کے حضور اس کی عظمت کا اقبال کرتے ہوئے اور اس کے جلال کا احساس رکھتے ہوئے وہ اس کی خشیت اپنے دل میں رکھتا اور اس کے مطابق اپنے رب کے حضور اداب بنتا ہے۔یہ وہ قلب ہے جسے قلب غیب کہا جا سکتا ہے اور یہ وہ قلب سلیم اور قلب غیب ہے جو ایک مربی کے دل میں دھڑکنا چاہئے۔اگر ایک مربی کے دل میں ایک قلب غیب نہیں دھڑکتا۔اگر اس کا دل تنہائی کے لمحات میں بھی خشیت اللہ سے بھرا ہوا اور لبریز نہیں اگر اس کا دل تنہائی کی گھڑیوں میں بھی اور میل ملاپ کے اوقات میں بھی اللہ تعالٰی