راہ عمل

by Other Authors

Page 38 of 89

راہ عمل — Page 38

۳۹ ارشادات حضرت خلیفة المسیح الثالث OOO دو بنیادی چیزیں میں اپنے مربی بھائیوں کو آج اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ کی نگاہ میں صحیح مربی بننے کے لئے دو بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ایک نور فراست دوسرے گداز دل - قرآن کریم نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ میں عقل کے نقص کو دور کرنے والا اور اس کو کمال تک پہنچانے والا ہوں اور اس کی جو خامیاں ہیں وہ میرے ذریعہ دور ہونے والی ہیں اور اس کے اندھیرے میرے ذریعہ روشن ہونے والے ہیں۔نیز قرآن کریم نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میرے نزول کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ گداز دل پیدا کئے جائیں۔جیسا کہ اللہ تعالی سورہ یوسف میں فرماتا ہے انا انزلنه قرانا عربيا لعلكم تعقلون (سوره یوسف آیت ۳) - آسمانی نور اس آیت میں اللہ تعالی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ قرآن کریم کو نازل کرنے اور ایک ایسی کتاب بنانے میں جو اپنے مضامین کو کھول کر بیان کرتی ہے ایک حکمت یہ ہے کہ انسان اپنی عقل سے صحیح کام لے سکے۔یعنی عقل میں، جو فی نفسہ ایک بنیادی خامی ہے کہ آسمانی نور کے بغیر اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے اس خامی کو قرآن کریم دور کرے۔جس طرح ہماری آنکھ باوجود تمام صلاحیتوں کے اور دیکھنے کی سب قوتیں رکھنے کے اپنے اندر یہ نقص بھی رکھتی ہے کہ وہ خود دیکھنے کے قابل ہے ہی نہیں جب تک بیرونی روشنی اسے میر نہ ہو گداز دل پس ایک مربی کو دوسروں کی نسبت زیادہ گداز دل ہونا چاہئے اس لئے تو اللہ