راہ عمل — Page 34
۳۵ اس لئے ان سے محبت سے معاملہ کریں اور یہ بات ان پر ظاہر نہ ہونے دیں۔اور ان کو ذہن نشین کرائیں کہ دنیا جو ان سے نفرت کرتی ہے اس کی وجہ عدم ایمان ہے اس لئے ان کو قوموں سے نفرت نہیں کرنی چاہئے ، افریقہ جانے والے مربیوں کو بلکہ ان کے مذہب کو حقیر جانیں۔ان میں آج کل اس بات کی وجہ سے اس قدر جوش پھیلا ہوا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا کو تباہ کر کے ان کی نسلیں آباد ہو جائیں۔اور اس جوش کو دیکھ کر مجھے خیال آتا ہے کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ مکہ پر ایک مبئی حملہ کرے گا تو اس کا کہیں یہی مطلب نہ ہو۔اپنی عادات میں۔لباس میں۔کھانے پینے میں ہمیشہ کفایت مد نظر رہے۔کفایت سے انسان کو شکر کی عادت پیدا ہوتی ہے۔اور شکر کے بعد بڑی بڑی نعمتیں ملتی ہیں۔ایک انسان جس کو کفایت کی عادت نہ ہو اس کو اگر بڑی بڑی نعمتیں بھی مل جائیں تو وہ یہی کہتا ہے کہ میرا حق تھا مجھے کیا ملا۔پس جو کفایت شعار نہیں ہوتا۔اس کے دل سے شکر کبھی نہیں نکلتا۔الوداعی تقریب میں خطاب ) الفضل ۳ مارچ ۱۹۲۴ء ) احمدیت کے آج بہت مخالف ہیں اور یہ مخالف ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔یہ مخالف ہمارے ہر کام میں نقائص نکالتے ہیں۔اور وہ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ حضرت مسیح موعود مهدی مسعود کے طفیل آج دنیا میں ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی ہے۔جو دین حق کی خاطر ا وہ تمام مصائب برداشت کر رہی ہے جو صحابہ نے کئے۔مگر ابھی جماعت میں بھی ایک ایسا طبقہ ہے جو قربانی کرنے میں مست ہے۔اگر ایسے مصائب جو بیرونی ممالک کے و اعیان برداشت کر رہے ہیں۔ساری جماعت اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے۔تو ہم دلیری سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری جماعت صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والی ہے۔اگر جماعت کے سب دوست دین کے لئے ایسی ہی قربانیاں کرنے اور ویسی ہی تکالیف