راہ عمل — Page 33
۳۴ جائیں۔جو ان کی نگرانی کریں۔نمازوں میں باقاعدگی کے متعلق بھی انتظام کیا جائے۔وہ قومیں اپنے سرداروں کا بہت ادب کرتی ہیں اس لئے ان سے معاملہ کرتے وقت کوئی ایسی بات نہ ہو جو ان کو بری لگے۔اور جب نصیحت کریں تو علیحدگی میں کریں تاکہ وہ بھی اپنی ہتک نہ سمجھیں۔ہاں الگ ہو کر دونوں گروہوں کو ذہن نشین۔کرانے کی کوشش کریں کہ مذہبی طور پر ان کا سردار وہی ہے جو ہمارا آدمی ہو گا۔چونکہ ان لوگوں کے دماغ ابھی بہت موٹے ہیں باریک باتوں کو ابھی نہیں سمجھ سکتے مثلا سی کہ جنت میں انعامات جو ہوں گے تو مثلا نمازس متمثل ہو کر پھلوں کی شکل میں ملیں گی۔اس لئے ان کے لئے یہی کافی ہو گا کہ دوزخ ایک ایسی چیز ہے جہاں خدا کی نافرمانی سے انسان جاتا ہے اور جہاں سخت عذاب ہوتے ہیں۔اور جنت وہ چیز ہے جہاں اس انسان کو جو خدا اور اس کے رسول کے احکام کو بجالائے بڑی بڑی راحتیں اور آرام ملتے ہیں اس سے یہ مطلب نہیں کہ ان کو اعلیٰ تعلیم دی ہی نہ جائے بلکہ پہلی بات ذہن نشین ہونے کے بعد تدریجا بتا ئیں۔-۵- انسان کو ست کبھی نہ ہونا چاہیئے ہمیشہ چست رہے۔اور اس کے لئے کچھ ورزش کرتے رہنا چاہئے مثلاً چلنا پھرنا ہی سہی۔اس کو روح سے بہت تعلق ہوتا ہے۔انبیاء کبھی ست نہیں ہوتے۔اپنا کام کرتے وقت کبھی یہ خیال دل میں مت لاؤ کہ لوگ میرا کام کردیں گے۔کسی دوسرے پر نگاہ مت رکھو۔ہاں اگر کوئی دوسرا شخص اس نیت سے کام کر دے کہ مجھے اس کا کام کرنے سے ثواب ہو گا تو اس کی نیت کا بھی لحاظ رکھیں۔اخلاق کا خاص خیال رکھیں۔جہاں تک ہو سکے اخلاق میں درستی پیدا کریں حکام سے معاملہ کرتے وقت بھی مناسب ادب سے پیش آئیں۔اور اپنی تعلیم کی حقیقت سے ان کو بھی آگاہ کرتے رہنا چاہیئے۔ان لوگوں کے اختیار میں بھی کچھ ہوتا ہے۔خواہ مخواہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کو چڑانا نہیں چاہئیے - پھر جن لوگوں میں آپ دعوت کا کام کریں گے۔ان میں آج کل یہ خیال خاص طور پر جوش سے پھیلا ہوا ہے کہ دنیا نہیں حقیر جاتی اور ہم سے نفرت کرتی ہے۔