راہ عمل

by Other Authors

Page 25 of 89

راہ عمل — Page 25

ง کہ جب ضرورت ہوتی ہے۔تو خدا تعالیٰ کہیں نہ کہیں سے بھیج دیتا ہے۔خدا تعالی خود ا لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے جو دو سروں کا محتاج ہو۔پھر اس کے لئے ایسا نہیں ہوتا۔ہاں اللہ تعالی پر کوئی بھروسہ کرے۔تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے سامان پیدا کرتا ہے۔حضرت مولوی صاحب بنایا کرتے تھے۔کہ ایک دفعہ مجھے کچھ ضرورت پیش آئی میں نے نماز میں دعا مانگی۔مصلی اٹھانے پر ایک پونڈ پڑا تھا۔میں نے اسے لے کر اپنی ضرورت پر خرچ کیا۔تو خدا تعالی خود سامان کرتا ہے۔کسی کو الہام کرتا ہے۔کسی کو خواب دکھاتا ہے۔اس طرح اس کی ضرورت پوری کرتا ہے۔لیکن کبھی اس طرح پر بھی ہوتا ہے۔کہ وہ ضرورت ہی نہیں رہتی ابتدائی مرحلہ یہ ہے۔کہ اس کی ضروریات ہی نہیں بڑھتیں۔اور اگر ضروریات پیش آتی ہیں۔تو پھر ایسے سامان کئے جاتے ہیں کہ وہ مٹ جاتی ہیں۔مثلاً ایک شخص بیمار ہے۔اب اس کے لئے دوائی وغیرہ کے لئے روپوں کی ضرورت ہے۔دعا کی بیمار ہی اچھا ہو گیا تو اب روپوں کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔تو نہ ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ ضرورت پیش ہی نہیں آتی۔پہلی حکمت یہ ہے کہ وہ لوگوں کا محتاج ہی نہیں ہوتا دوسری حکمت یہ ہے کہ لوگوں کا رجوع اس کی طرف ہو جاتا ہے۔خدا خود لوگوں کے ذریعے سے سامان کراتا ہے۔تم کبھی دو سروں پر بھروسہ نہ رکھو۔سوال ایک زبان سے ہوتا ہے۔اور ایک نظر سے۔تم نظر سے بھی کبھی سوال نہ کرو۔پس جب تم ایسا کرو گے تو پھر خدا تعالیٰ خود سامان کرے گا۔اس صورت میں جب کوئی تمہیں کچھ دیگا بھی تو دینے والا پھر تم پر احسان نہیں سمجھے گا۔بلکہ تمہارا احسان اپنے اوپر سمجھے گا۔لوگوں سے تعلقات: داعی الی اللہ کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر خادمانہ حیا رکھے۔لوگوں نے یہ نکتہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے بعض نے سمجھا کہ نوکر چاکروں کی طرح کام کرے یہ مراد نہیں اس غلط فہمی کی وجہ سے مانے پیدا ہوئے جن کا کام مردے نہلانا ہوا کرتا ہے۔کوئی بیمار ہو جائے۔تو کہتے ہیں۔