راہ عمل — Page 15
۱۶ طلبہ جامعہ احمدیہ کو پر حکمت نصائح " قرآن کریم سے صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص جماعت کو دین کی خدمت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ولتكن منكم انت يدعون الى الخير ويامرون بالمعروف وينهون عن المنكر و اولئك هم المفلحون (سوره آل عمران (١١) است ع (۱) اور دوسری طرف فرماتا ہے کنتم خیر امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنکر کہ سارے مومنوں کا فرض ہے کہ دعوت الی الخیر کریں تو ایک خاص جماعت کا ہونا ضروری ہے اور یہ لازمی چیز ہے۔کوئی فوج اس وقت تک کامیاب نہیں جب تک اس کا ایک خاص حصہ کام کے لئے مخصوص نہ ہو۔تمام نیچر میں یہی بات نظر آتی ہے کہ ایک ذرہ مرکزی ہوتا ہے۔مذہبی دعوت کے لئے بھی ایک ایسا مرکز ہونا چاہئے جو اپنے ارد گرد کو متاثر کر سکے اور دوسرں سے صحیح طور پر کام لے سکے۔میں غرض داعیان الی اللہ کی ہے۔لیکن عام طور پر خود داعیان نے بھی ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھا۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ احمدیت کے سپاہی ہیں اور کام انہیں خود کرتا ہے۔مگر جو یہ سمجھتا ہے وہ سلسلہ کے کام کو محدود کرتا ہے۔ہمارا یہ مقصد نہیں کہ علماء مباحثات کے لئے پیدا کریں بلکہ علماء کی غرض یہ ہے کہ وہ آفیسر کی طرح ہوں جو کام لیں۔اس گڈریے کی طرح جس کے ذمہ ایک گلے کی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔جب تک ہمارے داعیان یہ نہ سمجھیں اس وقت تک ہمارا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔دائی کے معنے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ غیروں کو مخاطب کرنے والا۔مگر صرف یہ معنے نہیں بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ غیروں کو مخاطب کرانے والا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑھ کر کون راضی الی اللہ ہو سکتا ہے ؟ مگر آپ کس طرح وعظ کیا کرتے تھے ؟ اس طرح کہ شاگردوں سے کراتے تھے۔صحابہ میں آپ نے ایسی روح پھونک دی کہ انہیں اس وقت تک آرام نہ آتا تھا جب تک خدا تعالی کی باتیں لوگوں میں نہ پھیلا لیں۔